VVIP Movement وی وی آئی پی موومنٹ

پاکستان کے لاکھوں افرادوی وی آئی پی موومنٹ کے تلخ تجربے کا سامنا کرچکے ہیں۔وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران شاہراہیں بلاک کرکے لوگوں کو ایک سڑک بھی عبورنہیں کرنے دیا جاتااورکبھی توپورا علاقہ بندکرکے لوگوں کوگھروں میں محصور کردیا جاتا ہے۔ماضی میںبھی سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر پرویز مشرف اور سابق وزیر اعظم شوکت عزیز وی وی آئی پی کلچر کے ذریعے عوام کیلئے مشکلات کا سبب بن چکے ہیں ۔سابق صدر پرویز مشرف کے کسی جگہ دور ے کے موقع پر تو پورے پورے علاقے کو سیل کر کے لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا جاتا تھا۔
25فروری 2010ءکو کوئٹہ میں صدر آصف علی زرداری کے دورے کے موقع پر اہم شاہراہوں کی دو گھنٹے ناکہ بندی کے دوران جہاں ہزاروں شہری متاثر ہوئے وہیں ایک خاتون نے رکشے میں ہی بچے کو جنم دیا۔اگرچہ صدر زرداری نے اس واقعہ پرمعذرت کی اور بچے کے لیے پانچ لاکھ روپے کا اعلان کیا اور حکومتِ بلوچستان نے ایک لاکھ روپے دیئے جبکہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے بچے کو اپنے خرچ پر گریجویشن تک تعلیم دلانے کا وعدہ کیا ہے۔ مگروزیرِ اعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچہ تو کہیں بھی پیدا ہوسکتا ہے، رکشے میں بھی اور جہاز میں بھی، اس کی ذمہ داری وی وی آئی پی موومنٹ پر نہیں ڈالی جا سکتی ۔
کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار وزیر قانون سندھ ایاز سومرونے بھی کیا۔
مگریہاں سوال یہ ہے کہ کیاصرف ایک بچے کو نوازنے سے لاکھوں شہریوں کو درپیش وہ مسائل ختم ہوجائیں گے جو وی وی آئی پی موومنٹ سے پیدا ہوتے ہیں؟
رکشے میں بچے کی پیدائش کے واقعے سے چار روز پہلے جنوبی پنجاب میں چولستان کار ریلی کے موقع پرسینئر صوبائی مشیر ذوالفقار کھوسہ کے وی آئی پی سکواڈ میں شامل ایک پولیس وین نے ایک موٹر سائیکل سوار کو کچل کر ہلاک اور دو کو شدید زخمی کر دیا۔ گذشتہ ماہ لاہور میں چیف سیکرٹری پنجاب جاوید محمودکی گاڑی نے ایک ریٹائرڈ کرنل ،محمداکرام کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کی تحقیقات کے نتیجے میںانہیں لمبی رخصت پربھیج دیا گیا۔جبکہ کراچی کی شاہراہ فیصل پر وی وی آئی پی موومنٹ کے موقع پر2006ءسے اب تک ایک بیمار لڑکی سمیت کم ازکم 5 افراد بر وقت اسپتال نہ پہنچائے جانے کے سبب ٹریفک جام میں پھنس جانے والی ایمبولینسوں میں دم توڑ چکے ہیں۔اس بارے میں جماعت اسلامی کراچی کے امیرمحمدحسین محنتی کا کہنا ہے کہ اگرحکام کی جانب سے 15منٹ پہلے ٹریفک روکنے کا حکم دیا جاتا ہے تو اس پر عملدرآمد کرنیوالے زیادہ مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آدھاگھنٹہ یا ایک گھنٹہ پہلے ہی شاہراہیں بندکردیتے ہیں۔
تاہم ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق انہیںڈی آئی جی آفس سے ملنے والی ہدایات کی روشنی میںاپنی ڈیوٹی انجام دینی ہوتی ہے۔
اس وقت صدر آصف علی زرداری سفرکیلئے زیادہ ترہیلی کاپٹرکو ترجیح دیتے ہیں تاہم کوئٹہ میں سفرکے دوران انکا قافلہ13 گاڑیوں پرمشتمل تھا جبکہ گزشتہ ماہ لاہور میں انکے اسکواڈ میں60 گاڑیاں شامل تھیں۔اسی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے وی آئی پی اسکواڈمیں صرف 8 گاڑیاں شامل ہیں جن میں ایک ایمبولینس بھی ہے۔
وزیر قانون سندھ ایاز سومروکا پروٹوکول کے حوالے سے کہنا ہے۔
مگرکیا کسی وی وی آئی پی کو اندازہ ہے کہ اس کی نقل و حرکت کے لیے پوری پوری شاہراہوں اور علاقوں کی گھنٹوں پہلے ناکہ بندی کے نتیجے میں کتنے لوگ بر وقت اپنے دفاتر اوراپنے کام کاج کی جگہوں پر نہیں پہنچ سکتے؟ کتنے بچے ہیں جو سکول جا یا آ نہیں سکتے؟ کتنے مسافر ہیں جو ٹرینوں اور فلائٹوں سے محروم رہ جاتے ہیں؟ لوگوں کی رائے میں وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران ٹریفک کوضرورروکا جائے لیکن خلق خدا کو اذیت میں مبتلا نہ کیاجائے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیرمحمدحسین محنتی کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کے طرز عمل سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ عوام کے حقیقی نمائندے نہیں۔
لیکن اےاز سومرو کا کہنا ہے کہ و ی وی آئی پی موومنٹ نا گزیر ہے۔
یہ مسئلہ چٹکی بجاتے یوں حل ہوسکتا ہے کہ وی وی آئی پیز اپنی نقل و حرکت کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کریں یا ان ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں جو اپنے وی وی آئی پیز کو شہری زندگی معطل کئے بغیر مکھن میں سے بال کی طرح بحفاظت نکال کر لے جاتی ہیں،مگرجمہوری عہد کے باوجود حکومت کا یہ طرزعمل ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *