Use of Supari پا ن، چھا لیہ کا استعما ل

پرانے دور میں بزرگ خواتین پان چھالیہ کا استعمال کیا کرتی تھیں، گھریلوخواتین پاندان میں پان چھالیہ سروتا وغیرہ رکھتی تھیں لیکن نیا زمانہ اپنے ساتھ پان مصالحہ،سونف اور مختلف اقسام کی چھالیہ لے آیا ہے جو نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں اسکولوں میں زیر تعلیم60فیصد بچے سونف اور سپاری کھاتے ہیں،جبکہ اسکولوں میں کینٹین اور کیفے ٹیریا سے بھی طلبہ و طالبات بآسانی چھالیہ خرید سکتے ہیں اسکے علاوہ اسکولوں کے قریب بھی ایسی دکانیں بڑی تعداد میں ہیں جہاں سونف،چھالیہ اور پان بھی دستیاب ہوتاہے۔چھالیہ کے کم عمر لڑکیوں اور خواتین کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔اس بارے میں ہم نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے صدر پروفیسر نظام الحسن سے بات کی تو انھوں نے بتایا :
کم عمر لڑکیاں اور اسکول کالج کی طالبات میں چھالیہ کا استعمال زیادہ دیکھنے میں آتا ہے جبکہ سہیلیوں کے ساتھ مل کر تفریح میں چھالیہ سونف اور پان کا استعمال کیا جاتا ہے جو بعد ازاں ایسی عادت بن جاتی ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے:
جبکہ عمر رسیدہ خواتین میں پان کا استعمال زیادہ دیکھنے میں آتا ہے پاکستان میں اس وقت چھالیہ بڑی مقدار میں امپورٹ کی جاتی ہے جبکہ اسے منافع بخش کاروبار بھی سمجھا جاتا ہے۔ پروفیسر نظام الحسن کا کہنا ہے کہ کم عمر لڑکے اور لڑکیوں میں پان اور چھالیہ کے استعمال کی ترغیب زیادہ تر والدین یا گھر کے بڑوں سے ملتی ہے جو سپاری ، گٹکے یا عموماً چھالیہ کے عادی ہوتے ہیں:
مختلف اقسام کی مضر صحت اشیاءکے ساتھ ساتھ میڈیا نوجون نسل میں پان مصالحوں اور سپاری کے استعمال کو بھی فروغ دے رہا ہے اور دیکھا یہ گیا ہے کہ چھالیہ کی طرح دیگر چیزیں جو ہماری صحت کیلئے انتہائی مضر ہوتی ہیں وہ فیشن یا ٹرینڈ بن کر ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *