ایک سال کے سخت مذاکرات کے بعد آخرکار گزشتہ امریکی فوج نے بگرام جیل کا کنٹرول افغان حکومت کے حوالے کرہی دیا۔ افغان صدر کا کہنا ہے کہ اس جیل کا کنٹرول سنبھالنا قومی خودمختاری کا معاملہ ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیںایک رپورٹ
بگرام جیل کی منتقلی کی تقریب ہورہی ہے، پروان نامی علاقے میں واقع اس جیل کا کنٹرول افغان حکام نے سنبھال لیا ہے۔ اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے اس لمحے کا انتظار کررہے تھے۔
حامد کرزئی”ہم نے امریکی فوج گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی بار بگرام سمیت تمام جیلوں کا کنٹرول منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔پہلے تو وہ تیار نہیں ہوئے، تاہم پھر وہ یہ ذمہ داری ہم کو منتقل کرنے کے لئے تیار ہوہی گئے۔ امریکی ہمیں یہ ذمہ داریاں سونپ دیں گے اور اللہ نے چاہا تو یہ عمل جلد مکمل ہوجائے گا”۔
امریکی فوج نے کابل میں یہ جیل دس سال پہلے بنائی تھی، آغاز سے ہی اسے متنازعہ حیثیت حاصل تھی، اور اکثر اسے افغانستان کی گوانتاموبے جیل بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں تین ہزار قیدی بغیر ٹرائل کے موجود ہیں، ان سب سے القاعدہ اور طالبان عسکریت پسندوں سے تعلقات کا الزام ہے۔ افغان ہیومین رائٹس کمیشن کے سربراہ شمس اللہ احمد زئی کا کہنا ہے کہ اب ان قیدیوں کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔
شمس اللہ”ملکی و بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان قیدیوں کا پہلا بنیادی حق شفاف طریقے سے مقدمات کا ٹرائل ہونا ہے”۔
محمد انور کے بھانجے کو دو سال قبل امریکی فوج نے گرفتار کرکے بگرام جیل میں ڈال دیا تھا، اس پر الزام تھا کہ وہ طالبان تحریک کا حصہ ہے اور اب تک وہ بغیر ٹرائل کے جیل میں قید ہے۔
محمد انور”ہمیں اس سے تین ماہ میں صرف ایک بار ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔ میں اس فیصلے سے بہت خوش ہوں کہ افغان حکومت نے بگرام جیل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ افغانیوں کا ملک ہے، یہاں کی جیلیں اور حکومت بھی افغانیوں کی ہے، یہ امر اچھا ہے کہ اس جیل کا کنٹرول واپس ہماری حکومت کو مل گیا ہے”۔
بگرام جیل کی منتقلی کے سلسلے میں ہونے والے معاہدے کے تحت افغان حکومت خطرناک قیدیوں کو امریکی نظرثانی کے بغیر رہا نہیں کرسکے گی، جبکہ پچاس غیرملکی قیدی بدستور امریکی ہاتھوں میں رہیں گے۔ تاہم سول سوسائٹی اینڈ ہیومن رائٹس نیٹورک کے عہدیدار اجمل بلوچ ذادا ارمان شھراس صورتحال پر فکرمند ہیں۔
اجمل بلوچ”سب سے بڑی فکرمندی کی بات قیدیوں کی فائلوں کی اسکروٹنی کی ہے، جو اب افغان حکومت کے ہاتھ آنے والی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ ان فائلوں کی اسکروٹنی کے بعد افغانستان اور دیگر ممالک کے سیکیورٹی خطرہ بننے والے قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا۔ ایسا پہلے بھی گزشتہ سال اس وقت ہوا تھا جب افغان حکومت نے بگرام جیل کے تین ہزار قیدیوں کا کنٹرول سنبھال کر 26 قیدیوں کو خاموشی سے چھوڑ دیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ افغان حکومت اب بھی ایسا ہی کرے گی جو مستقبل میں ہمارے لئے خطرہ بن جائے گا”۔