اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیاءمیں اسے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے مسئلے سے نمٹنے میں مشکلات کا سامان ہے، رواں برس ہی اب تک بارہ ہزار پناہ گزینوں نے جکارتہ میں عالمی ادارے میں خود کو رجسٹر کرایا۔ اسی بارے میں انڈونیشیاءمیں اس ادارے کے نمائندے مینوئل جور ڈاو کا برمی مسلمانوں کے ایک خاندان کے کیس کے حوالے سے انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں
مینوئل جور ڈاو”ہم اس خاندان کو جانتے ہیں، انھوں نے رجسٹریشن کرائی اور اب انٹرویو کاانتظار کررہے ہیں، اس موقع پر انہیں انتظار کرنا ہوگا، ہم انہیں دوسروں پر ترجیح نہیں دے سکتے، ہم چاہے تو اس کیس پر پہلے کام کرسکتے ہیں، مگر ہم ترتیب کے حساب سے کام کرتے ہیں”۔
سوال”آپ جلد یہ کام کیوں نہیں کرسکتے؟
مینوئل جور ڈاو”کیونکہ یہاں ایسے متاثرین موجود ہیں جو اس خاندان سے پہلے ہمارے پاس آئے تھے”۔
سوال”تو کیا آپ کے اتنا عملہ نہیں جو یہاں آنے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کے معاملات نمٹا سکے؟
مینوئل جور ڈاو”اس کام میں وقت لگتا ہے، انتظار کرنے والوں کی فہرست بنتی ہے، سب لوگوں کا کام بیک وقت نہیں ہوسکتا”۔
سوال”ہم جاننا چاہتے ہیں کہ یہ برمی خاندان لیگل ایڈ سینٹر کے آفس بلاک میں کیوں مقیم ہے، آخر انہیں کسی اور متبادل جگہ پر کیوں نہیں رکھا گیا؟
مینوئل جور ڈاو”انڈونیشیاءمیں دستیاب آپشنز محدود ہیں، کیونکہ انڈونیشیاءنے عالمی مہاجرین کنونشن پر دستخط نہیں کئے ہوئے اور نہ ہی وہ ان کا خیال رکھنے کا ذمہ دار ہے”۔
سوال”تو اس کا مطلب ہے کہ آپ جکارتہ میں سرکاری وسائل استعمال کرنے سے قاصر ہیں؟
مینوئل جور ڈاو “جی ہاں ہمیں محدود سطح پر وسائل استعمال کرنے کی اجازت ہے، جس سے لوگوں کی زیادہ مدد نہیں ہوپاتی۔خصوصاً خواتین اور بچے وغیرہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں”۔
سوال” رواں برس انڈونیشیاءآنے والے چودہ ہزار افراد میں سے اب تک یو این ایچ سی آر کتنے متاثرین مدد کرسکی ہے؟
مینوئل جور ڈاو”بہت کم تعداد میں لوگوں کی مدد کی جاسکی ہے، یہ تعداد تین سو کے قریب ہے، جبکہ سو بچوں کو دو مراکز میں رکھ کر مدد فراہم کی گئی، جبکہ باقی افراد کی امداد کیلئے انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائگریشن سے تعاون کیا جارہا ہے”۔
سوال”اس طریقہ کار میں کتنا وقت لگتا ہے، اگر میں آج آپ کے پاس سیاسی پناہ کیلئے آﺅں تو میرے دعوے کو سننے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟
جورڈاو”اگر آپ آج سیاسی پناہ کی تلاش میں رجسٹریشن کی درخواست دیں، تو آپ کو آج ہی رجسٹر کرلیا جائے گا، مگر پہلے انٹرویو میں وقت لگ سکتا ہے، یعنی دو سے تین
ماہ کیونکہ یہاں پہلے ہی کافی بھیڑ موجود ہے، ہمارے پاس چودہ افراد موجود ہیں جو انٹرویو کے ذریعے آپ کی کہانی کی صداقت جانچنے کی کوشش کرتے ہیں”۔
سوال” وہ کس طرح فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ کہانی درست ہے یا نہیں؟
مینوئل جور ڈاو”ان لوگوں نے یو این مہاجرین کنونشن کے درست استعمال کیلئے ایک سال کا تربیتی کورس کررکھا ہے، درحقیقت آپ کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ کو گھر واپس بھیجنا آپ کی زندگی کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے”۔
سوال”کتنے فیصد افراد درست پناہ گزین ثابت ہوتے ہیں؟
مینوئل جور ڈاو”اس وقت پچاس فیصد درخواستیں افغانستان سے آرہی ہیں، اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے ستر فیصد حقیقی پناہ گزین ثابت ہورہے ہیں”۔
سوال” یہ تو کافی بلند شرح ہے۔
مینوئل جور ڈاو”جی ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر پناہ گزین افغانستان سے آتئے ہیں اور دوسرا بڑا گروپ برمی مسلمانوں کا ہے”۔
سوال”تو آپ کا کہنا ہے کہ دو ماہ کے اندر میرا انٹرویو کرکے تعین کیا جائے گا کہ میں پناہ گزین ہو یا نہیں؟
مینوئل جور ڈاو”آپ کا انٹرویو دو ماہ کے اندر ہوگا، ہمیں زیادہ سے زیادہ بارہ سے سولہ ماہ لگتے ہیں، جس کے بعد ہم آپ کے پاس حتمی فیصلے کے ساتھ آتے ہیں، اگرچہ ڈیڑھ سال کا عرصہ مثالی نہیں مگر اس مرحلے پر ہم اس سے زیادہ نہیں کرسکتے”۔
سوال” اگر مجھے پناہ گزین کی حیثیت مل جائے تو پھر تین آپشنز ہوتے ہیں، مجھے گھر واپسی میں مدد دی جاتی ہے، انڈونیشیاءمیں بسایا جاتا ہے یا کسی تیسرے ملک جیسے آسٹریلیا میں رہائش دی جاتی ہے، دو آپشنز تو ممکن نہیں تو کسی محفوظ ملک میں میری بحالی نو میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے؟
مینوئل جور ڈاو”اس کا دورانیہ ہر ملک کے مطابق مختلف ہوتا ہے”۔
سوال” تو اگر میں آسٹریلیا جانا چاہتا ہوں تو ؟
مینوئل جور ڈاو”آج سے اس عمل کو مکمل ہونے میں کم از کم ایک برس کا عرصہ تو لگ ہی جائے گا، یہ بات جاننا اہم ہے کہ کسی تیسرے ملک میں پناہ کسی عالمی معاہدے کے تحت نہیں ملتی بلکہ یہ اس ملک کا خیرسگالی پروگرام ہوتا ہے”۔
سوال” ہر سال انڈونیشیاءسے کتنے پناہ گزینوں کو دیگر ممالک میں بھیجا جاتا ہے؟
مینوئل جور ڈاو” اس وقت بحالی نو کی حد فی برس ایک ہزار کے قریب ہے، جکارتہ میں یو این ایچ سی آر کی موجودہ گنجائش ایک ہزار کے قریب ہے، ہم اس سے زیادہ درخواستوں پر کام نہیں کرسکتے”۔
سوال”یہ تو یہاں آنے والے پناہ گزینوں کے مقابلے میں بہت کم تعداد ہے؟
مینوئل جور ڈاو ”آبادکاری کا یہ عمل انڈونیشیاءمیں آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد کے مطابق نہیں ہوسکتا”۔
سوال”تو ان پناہ گزینوں کو کسی تیسرے ملک میں آباد کاری کا موقع نہ ملنے پر انڈونیشیاءمیں ہی رہنا پڑتا ہے؟
مینوئل جور ڈاو”انڈونیشیاءمیں پناہ گزینوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے، یہ تعداد باہر بھیجے جانے والے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے، آبادکاری، اتنی بڑی تعداد میں موجود پناہ گزینوں کی مشکلات کے خاتمے کا ،کوئی حل نہیں”۔
سوال”تو پھر کیا ان لوگوں کو انڈونیشین شہری بن جانا چاہئے؟
مینوئل جور ڈاو”انڈونیشیاءیا اس سے خطے کا شہری بننا ہی بہتر حل ہوگا، ہمارا تو یہی سوچنا ہے کہ اس خطے میں آنے والے اتنی تعداد میں پناہ گزینوں کے بارے میں خطے کے ممالک سے بات کی جانی چاہئے اور اس حوالے سے ملکر کام کیا جانا چاہئے۔ اگر یہ مسئلہ خطے کی سطح پر حل نہیں ہوسکا تو یہ مسئلہ ایک سے دوسرے ملک تک پھیلتا چلا جائے گا، اور اس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا، جبکہ مختلف ممالک میں سیاسی مسائل بھی پیدا ہوں گے جنھیں باآسانی پیدا ہونے سے روکا جاسکتا ہے”۔