Ubaro Girl اوبا ڑو کی ایک لڑکی کی داستان

کہاجاتاہے کہ مشرق میں بہو بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں،لیکن افسوس اسی سرزمین پر مشرق کی ایک بیٹی کی ساتھ ہونیوالا وحشیانہ سلوک ہماری معاشرتی و اخلاقی اقدار پر اک سوالیہ نشان ہے۔۔۔

اباوڑو کی گا ﺅں مٹھو بھٹو سی تعلق رکھنی والی شہناز بھٹو کی ساتھ برتی جانے والے درندگی ،ظلم و زیادتی اور سفاکی کی مثال ہے ۔شہناز بھٹو کی بھائی علی گوہر بھٹو کو اسی علاقے کی رہائشی علی شیر بھٹو کی بیوی کی ساتھ مبینہ تعلقات کی الزام میں کارو قرار دیاگیاتھا اور اس بات کا بدلہ ایک معصوم لڑکی سے لیا گیا ،علی شیر بھٹو نے مسلح ساتھیوں کی ساتھ علی گوہر کی گھر میں زبردستی گھس کر اسکی بہن شہناز بھٹو کو اغوا کیا اور کھیتوں میں لے جا کر برہنہ کرنے کے بعد اسکی سر کے بال کاٹ دیئے۔۔۔۔بد نصیب شہناز کی والد امیر بخش بھٹو کا کہنا ہے کہ ہم غریب کا شتکار ہیں اور غریبوں کو اگر روٹی نصیب نہیں تو کیا عزت سے جینے کا حق بھی ہم سے چھین لیا گیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ انکی بیٹی پر کاروکاری کا جھوٹا الزام ہے اور جو کچھ انکی بیٹی کی ساتھ ہوا کسی کی بیٹی کی ساتھ نہ ہو۔۔

غریب کسان کی بد قسمت بیٹی شہناز کا کہنا ہے کہ بھائی پر لگائے گئے جھوٹے الزام کی سزا آخر اسی کیوں دی گئی

 شہناز کا کہنا ہے کہ جو سلوک اس کی ساتھ کیا گیا اس کی بدلے میں ملزمان کو پھانسی دی جائی تو بھی کم ہے:

 شہناز بھٹو کے ساتھ ہونے والے ظالمانہ سلوک کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی نیوز چینلز پر نشر کی گئی اور خبر کی آخری لائن تھی، شہناز بھٹو کی ساتھ وحشیانہ سلوک کرنیوالے گیارہ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیاجائے گا، لوگوں کو یقین ہے کہ قانون نا فذ

کرنے والے ادارے اپنا کام ضرور کرے گے ،ملزمان گرفتار ہوں گے اور با عزت بری بھی ہو جائیں گے ۔۔۔سوال یہ ہے کہ شہناز بھٹو کو کس بات کی سزا دی گئی۔۔ علی گوہرکی بہن ہونا اسکا قصور تھا یا محض ایک عورت ہونا۔۔اور سوال یہ بھی ہے کہ دیہات میںبسنی والی ایک کسان کی بیٹی سے لیکر شہر میں بسنی والی ایک ایگزیکٹو کی بیٹی تک محفوظ نہیں ،اور انہیں تحفظ دی گا کون ؟؟ ملزمان کی جلد گرفتاری کے دعویدارشہناز بھٹو سمیت ظلم اور تذلیل کا نشانہ بننے والی مشرقی بیٹیوں کا ارباب اقتدارسے صرف ایک مطالبہ ہے کہ خدارا ہمیں معاشرے میں عزت اور احترام سے جینے کا حق دلوایا جائیے کہ ہم مائیں ،بہنیں اور بیٹیاں ہیں ۔۔۔اس قوم کی عزت ہمیں سے ہے۔۔۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *