اے میرے دل کہیں اور چل جیسے متعدد گیتوں کو اپنی آواز سے لازوال بنا دینے والے برصغیر کے لیجنڈ گلوکار و اداکار طلعت محمود 24 فروری 1924ءکو لکھنو میں پیدا ہوئے۔
طلعت محمودکو بچپن سے ہی گلو کاری کا شوق تھا، اور پندرہ سال کی عمر میں ہی انھوں نے لکھنو ریڈیو سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا۔
1944ءمیں ان کے ایک غیر فلمی گیت تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی سے ان کی شہرت پورے برصغیر میں پھیل گئی، چونکہ شکل و صورت سے بھی طلعت محمود ایک خوبصورت انسان تھے لہٰذا کئی فلمسازوں نے انہیں اپنی فلموں میں بطور ہیرو بھی سائن کیا۔
تاہم بولی وڈ میں انہیں گانے کا موقع 1950ءمیں دلیپ کمار کی فلم آرزو سے ملاجس کے گیت اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو نے انہیں معروف کردیا۔
اسی طرح فلم داغ کا اسی سے ملتاجلتا گیت اے میرے دل کہیں اور چل اور ہم درد کے مارو کا، نے انہیں بام عروج پر پہنچا دیا۔
اپنی فلمی زندگی میں طلعت محمود نے سب سے زیادہ گانے دلیپ کمار کی فلموں کے لیے ہی گائے، جیسے شام غم کی قسم یا حسن والوں کو، اور یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
طلعت محمود نے المیہ گانے زیادہ گائے ہیں، اسی لیے انہیں دکھ درد اورکرب کا ترجمان مانا جاتا ہے۔ اسی لیے مدھم سروں میں ان کے گائے گئے گانوں کو سن کر غم دھیرے دھیرے اندر اترنے لگتا ہے۔
انھوں نے آٹھ سو سے زائد فلمی گیت گائے، جن سے چند بہت زیادہ مقبول ہوئے، جیسے جلتے ہیں جس کے لئے، اے غم دل کیا کروں، تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی، پھر وہی شام، پیار پر بس تو نہیں اور میرا پیار مجھے لوٹا دو زبان زد عام ہوئے۔
ان کو فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا اور حکومت ہند نے پدما بھوشنایوارڈ سے بھی نوازا۔
نو مئی 1998ءکو ممبئی میں طلعت محمود کا انتقال ہوا، تاہم آج بھی ان کے نغمے دلوں کو جھنجھوڑ کر ایک خاص کیفیت پیدا کردیتے ہیں۔