ملک میں ہرسال کی طرح اس بار بھی پھر وہی گرمی کا موسم اور لوڈ شیڈ گ کا عذاب ہے۔گرمی کے آغاز کیساتھ ہی ملک بھر میں لوڈشیڈ گ کا دورا یہ سولہ سولہ گھ ٹے تک جاپہ چا تھا،تو اللہ جا ے جو اور جولائی کی چلچلاتی دوپہریں کیسے کٹیں گی۔
مگر ٹھہریئے ہم باری باری یاد دلاتے ہیں کہ پچھلے زما وں کے موسم گرما کی کیا دلکشی اور کیا بہاریں ہوا کرتی تھیں،جو اب تقریباً اپید ہوگئی ہیں۔
شکر کے شربت، ستو، کچی لسی اور ٹھ ڈائی گرمیوں میں مہما وں کی تواضع کا بڑا ذریعہ تھے۔ ستو کا شربت تو اب بھی شہروں اور گاﺅں میں کافی استعمال ہوتا ہے، تاہم اب گھروں کی بجائے اس سے محظوظ ہو ے کیلئے آپ کو بازاروں کا ہی رخ کر ا پڑتا ہے۔محمد یوسف ستو کے شربت کا ٹھیلا لگاتے ہیں،وہ اسکے فوائد بتارہے ہیں۔ )
ٹھ ڈے پا ی کےلئے گھر گھر بڑے گھڑے اور مٹکے رکھے جاتے تھے۔ صراحیوں کا استعمال بھی عام تھا۔ ہروں، کھالوں اور ٹیوب ویلوں پر شام کے وقت تربوز، خربوزے اور آم کھا ا اور ہا ا بھی ایک شا دار روایت تھی۔ بچوں ے گلی میں آواز لگاتے گولے گ ڈے والے کی آواز س ی ہیں کہ فوراً باہر کی طرف بھاگتے تھے۔ جاوید ایک قلفی فروش ہیں، وہ آٹھ وسال سے یہ کام کررہے ہیں۔ا کے مطابق گرمیوں میں ا کا کام زیادہ اچھا چلتا ہے۔
مگر اب ماں باپ ہی بچوں کو ڈا ٹ کرگولے یا قلفی کھا ے سے م ع کردیتے ہیں اور بہا ے یہ کرتے ہیں کہ گلا خراب ہوجائے گا۔ برف گ دے پا ی سے ب ی ہے، ایس س قصا دے گا، وغیرہ وغیرہ۔یہی وجہ ہے کہ آج کی سل کے بچے اپ ے خیالات کا اظہار ا الفاظ کرتے ہوئے ظر آتے ہیں۔
سخت گرمی میں ٹھ ڈے مشروبات کسے اچھے ہیں لگتے،جب ہی تو گرمی شروع ہوتے ہرجگہ شربت فروشوں کے ٹھیلے سج جاتے ہیں۔راجہ بھی ا میں ایک ہیں، وہ لیموں پا ی سے لوگوں کی پیاس بجھاتے ہیں۔
عوام میں املی اور آلوبخارے کا شربت بھی مقبول ہے، جب ہی تو موسم گرما کے دورا لیموں پا ی کے بعد سب سے زیادہ ٹھیلے اسی شربت کے ظرآتے ہیں۔ محمد عمرا ایسے ہی ایک شربت فروش ہیں۔
لیک اب ماہری صحت کا کہ ا ہے کہ شدید گرمی میں یخ ٹھ ڈا پا ی یا مشروبات پی ا صحت کےلئے خطر اک ہے،کیو کہ ا سے ہیضہ، قے، دست، ہیپا ٹائٹس اور دیگر وبائی امراض پھیل ے کا خدشہ ہوتا ہے۔موسم گرما کے دورا ہیضے اور پیٹ کے دیگر امراض میں اضافے کی بڑی وجہ پھل فروشوں کی جا ب سے گلے سڑے اور کٹے ہوئے پھل فروخت کر ا بھی ہوتا ہے ج سے دور رہ ے کی ماہری صحت ا تہائی سختی سے ہدایت کرتے ہیں۔
