اسٹار وازز کاوایانگ کولت ورژن ملائیشیاءمیں تیار کیا گیا ہے، اس کا مقصد نئی نسل کے پرستاروں کو تاریخی شیڈو پپٹ کی جانب راغب کرنا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
یہ دیکھنے مین ایک روایتی وایانگ کولت شو نظر آتا ہے مگر اس میں کچھ مختلف بھی ہے، ویژل اور ساﺅنڈ ایفیکٹس ناظرین کے دل کو لبھانے کیلئے اس میں شامل کئے گئے ہیں، اینیمٹر کو یوان پنگ نے معروف شیڈو پلے پرفارمرمحمد دین عثمان کیساتھ ملکر جدید دور کے پتلی تماشے کا انعقاد کیا۔
کو”میں اس روایتی فن کو نوجوان نسل میں فروغ دینا چاہتا ہوں، کیونکہ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ فن پرانا اور فرسودہ ہوچکا ہے، تو اب لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ہم نے اس میں کچھ نیا کیا ہے”۔
یہ کچھ نیا اسٹار وارز فلم سیریز میں سے لیا گیا ہے۔
کو”اس ڈرامے کے دو مرکزی کردار سنگکا لا ویداراور پرانتو لنگکت ہیں، ایک اچھا اور برا، یہ کردار نئے بھی ہیں اور پرانے بھی، تو یہ ماضی کی مستقبل سے ملاقات ہے، یا یوں کہہ لیں کہ روایات اور سائنس فکشن کا امتزاج ہے”۔
اس منصوبے کا مقصد تاریخی ثقافت کا احیاءہے اسے تبدیل کرنا نہیں، معروف پرفارمر محمد دین کا کہنا ہے کہ روایات میں اس کے بنیادی عناصر کو برقرار رکھ کر جدت کی آمیزش کی جاسکتی ہے۔
محمد دین”اگر آپ باہری دنیا کی کہانی جیسے اسٹار وار پر کام کرنا چاہتے ہیں، تو ماہر ترین پتلی باز ہونا ضروری ہے، جبکہ اسکرین اور دیگر چیزوں کا خیال بھی رکھنا ہوگا”۔
ایک اینیمٹر کے طور پرکو یوان پنگ ، اس پتلی تماشے کے پرانے ورژن میں ساﺅنڈ اور ویژول ایفیکٹس سمیت دیگر نئی ٹیکنالوجی بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان میں سے ایک تبدیلی کرداروں کی موسیقی میں تبدیلی ہے، محمد دین اس بارے میں بتارہے ہیں۔
محمد”جب بات اسٹار وارز کی ہو تو ہم میں ڈرتھ واڈاکے کردار کیلئے ایک خاص موسیقی کی ضرورت محسوس ہوئی، اس موسیقی کو روایتی شیڈو پلے کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے تحت مرتب کیا گیا، اگر اس میں دیگر آلات موسیقی کو شامل کیا جاتا تو پھر یہ شیڈو پلے نہیں رہتا”۔
اس ڈرامے کی تیاری میں ایک سال سے زائد عرصہ لگا اور کووکا کہنا ہے کہ ابھی بھی کافی چیلنجز کا سامنا ہے۔
کوو”کسی نے بھی اس سے پہلے اس طرح کا کام نہیں کیا، یعنی لوگ سوچتے تھے کہ ہم ایسا کیسے کریں گے؟ کیا ہم واقعی ایسا کرسکتے ہیں؟ ہمیں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور پتلیوں کے سائز، ویژول ایفیکٹس کی تیاری وغیرہ سمیت ہمیں مسلسل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا”۔