Sialkot Torture Case سیالکوٹ تشدد کیس

    15 اگست کو شاعر مشرق کے شہر سیالکوٹ میںبھرے مجمع میں پولیس اہلکاروں کی آنکھوں کے عین سامنے ایک رواں دواں سڑک کے بیچوں بیچ دو بھائیوں کو ڈنڈے مارمار کر انتہائی بیدردی سے قتل کردیا گیا۔ اسلامی معاشرہ توبہت دور کی بات ہے، کسی نام نہاد انسانی معاشرے میں بھی اس انداز کی انسان کشی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں بھائیوں کو وحشیانہ طریقے سے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشو ں کی بے حرمتی بھی کی گئی اور شہر میں گھمایا گیا۔جاں بحق ہونیوالے مغیث اور منیب کے والدسجادبٹ کا کہنا ہے کہ انکے بچوں پرپولیس نے جھوٹا الزام لگاکرمارا ہے۔
جبکہ حافظ مغیث اور منیب کی والدہ اپنے بچوں کے قاتلوں کو عبرتناک سزائیں ملتے دیکھنا چاہتی ہیں۔
بربریت کا نشانہ بننے والے دو بھائیوں کے تایا خواجہ محمد امجداس سانحے کا پس منظر بتارہے ہیں۔
سیالکوٹ میں ان بھائیوں کا قتل پولیس کی بطور ادارہ ناکامی کی نشانی ہے۔پورے ملک میں امن وامان کی صورتحال روزبروز خراب ہوتی جارہی ہے، اغوائ، قتل، ڈاکے، زمینوں پر قبضے، کاراور موبائل فون چھیننے کی وارداتیں، دیہاتوں میں مویشیوں کی چوریاں اور ناجائز اسلحے کی فراوانی ہے۔بااثر ملزمان کو گرفتارنہ کرنا اوراگر ملزمان گرفتار کربھی لیے جائیں تو رشوت لے کر ان کے خلاف مقدمات کو کمزور کر دینا پولیس کا طرہءامتیاز بن چکا ہے،جسکی تازہ مثال 27اگست کو ملتان میں ہونے والی ظلم کی ایک اورواردات
جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں۔
پولیس کے ساتھ ساتھ وکلاءاور نچلی سطح پر عدالتی عملہ بھی ملزمان کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخارمحمد چوہدری کا خود کہنا ہے کہ نئے پولیس آرڈر کے تحت کوئی نگرانی باقی نہیں رہی اس لئے 97فیصد ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔اس بارے میں جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ پولیس اور عدلیہ کے ادارے سیاست زدہ اور کرپشن کا شکار ہوچکے ہیں۔
اس صورتحال میں عام آدمی مایوس ہوکر انصاف خود کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، اور پھر چند روز قبل فیصل آباد میں دو ڈاکوﺅں کو تشدد کا نشانہ بنانیم مردہ کردیا جاتا ہے، رواں سال مئی میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آٹھ مبینہ ڈاکوﺅں کو تشدد سے ہلاک کردیا جاتا ہے، جن کے بارے میں اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ واقعی ڈاکو تھے بھی یا نہیں یا کراچی میں ڈاکوﺅں کو جلانے کے تو بے شمارواقعات پیش آچکے ہیں۔ اسی طرح مختلف علاقوں میں ڈاکوﺅں کو جلانے کی ناکام کوشش یا زودکوب کرنے کے واقعات ہوچکے ہیں۔
اس سے یہ تو ثابت ہوجاتا ہے کہ عام آدمی اب تشدد سے نفرت نہیں کرتا،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ گوجرانوالہ ریجن میں گزشتہ دو ڈھائی برس کے دوران اس طرح کے درجنوں واقعات میڈیا پر رپورٹ ہوتے رہے، یعنی ملزمان کی پولیس مقابلوں میں ہلاکت اور شہروں میں گھمانا، لیکن وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت کے کان پر جوں رینگی۔
مقدمے میں پولیس اہلکاروں پر غفلت برتنے جبکہ دیگر افراد پر قتل کرنے اور اعانت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ پولیس نے ہلاک کیے جانے والے دونوں بھائیوں کے خلاف مسلح ڈکیتی کرنے کے الزام میں مقدمہ بھی درج کیا تھا۔
سپریم کورٹ کی طرف سے پولیس کی موجودگی میں دو بھائیوں کی ہلاکت کے واقعہ پر کارروائی کے بعد ضلع کی پولیس سربراہ یعنی ڈی پی او کو او ایس ڈی بنادیا گیا۔اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے انسداد رشوت ستانی کے ڈائریکٹر جنرل کاظم ملک کی سربراہی میں عدالتی کمیٹی قائم کرتے ہوئے سات روز میںرپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کردی۔جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک نے 24اگست کوسیالکوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ انھوں نے سانحہ سیالکوٹ کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور اہم شواہد مل گئے ہیں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے ہلاکت کی تحقیقات کیلئے مقرر تفتیشی افسر میجر مبشر کو تبدیل کرکے ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی پنجاب مشتاق سکھیرا کی سربراہی میں اس سانحہ کی تحقیقات کیلئے ایک جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم قائم کر دی ہے، جسکی تحقیقات جاری ہے۔
اس بحث سے قطع نظر کہ اس ویڈیو کوکس حد تک سنسر کرنے کے بعد جاری کیا جاتا اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ ویڈیو پر شدید عوامی ردعمل نے حکومت کو کسی حد تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔نتیجے میں ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بڑھکوں اور انکوائریاں بٹھانے کے علاوہ عملی اقدام کے طور پرنچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیاگیا۔ان سے بڑے درجے کے ضلعی پولیس آفیسر کو معطل کیا اور ریجنل پولیس افسر کو ایک عہدے سے ہٹا کر دوسرا عہدہ دیدیا گیا۔اور اب تک مقدمے میں نامزد ملزمان اور پولیس اہلکاروں سمیت سو کے قریب افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مقدمہ میں پولیس کے ایس ایچ او کو بھی نامزد کیا گیا جو بقول مقامی میڈیا کے پولیس حراست سے فرار ہوگئے ہیں۔۔وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ سانحہ سیالکوٹ میں پولیس اہلکارزیادہ بڑے ملزم ہیں۔
دیکھا جائے تو اس سانحے کے بعد کئی طرح کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں، جیسے کہ بلال نامی شخص کا قاتل کون ہے؟ دو زخمیوں کو کس نے نشانہ بنایا؟ اس واقعے سے مغیث اور منیب کا کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں، وغیرہ وغیرہ،اس حوالے سے سپریم کورٹ کے کمیشن کی رپورٹ تو عدالت میں جمع ہوچکی ہے،اور اصل حقیقت سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی سامنے آئیگی،تاہم جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ سانحہ سیالکوٹ میں انصاف جلدازجلد ہوتا نظر آئیگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *