Shortage Of Ambulance ایمبو لینس کی کمی

ڈیڑھ کروڑ سے زائدآبادی کا شہرکراچی جسے پاکستان کا سب سے بڑاشہرہونیکا اعزازحاصل ہے ،یہاں کسی مریض کو ایمبولینس کے ذریعے گھرسے اسپتال پہنچانا کوئی آسان کام نہیں۔ایک طرف سرکاری سطح پر ایمبولینس سروس عملاً نہ ہونیکے برابرہے تو دوسری طرف فلاحی اداروں کو ایمبولینسوں کی کمی کا سامنا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو صرف نجی فلاحی ادارے ہی اس سلسلے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔اس بارے میں پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ایدھی فاﺅنڈیشن کے روح رواں عبدالستارایدھی بتارہے ہیں۔
ایدھی فاو¿نڈیشن پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو عوام کو گراو¿نڈایمبولنس سروس کے ساتھ ساتھ ائیرایمبولنس کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
ایدھی فاﺅنڈیشن کے بعدکراچی میں اس حوالے سے دوسرا بڑانام چھیپا ویلفئیرٹرسٹ کا ہے جو کم وسائل کے باوجوداس کام کوجاری رکھے ہوئے ہے تاہم چھیپاکے پاس اس وقت کراچی کے کروڑوں افرادکیلئے صرف73ایمبولینسں موجودہیںجبکہ دیگرنجی اداروں میں صورتحال اس سے بھی گئی گزری ہے۔ اس بارے چھیپا ویلفئیر ٹرسٹ کے صدر رمضان چھیپا کا کہنا ہے۔
عوام کے عطیات اوراپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے والاادارہ المصطفٰی ویلفئیر سوسائٹی جو لوگوں کی جانوں کو موت کے منہ سے نکال کر زندگی کی راہ پر لانے کا عظیم کام کررہا ہے،کراچی جیسے بڑے شہر میں ایمبولینس ،میت گاڑی اور دیگر طبی سہولیات فراہم کرنے کا نمایاں ادارہ ہے۔ المصطفٰی ویلفئیرسوسائٹی کے ٹرسٹی مناف الانہ کا فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں کہنا ہے۔
سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی نے2008ءمیں ایمرجنسی ایمبولینس سروس یکم جنوری 2009ءسے شروع کرنیکااعلان کیا تھا،جسے ہیلپ لائن 1122ذریعے شہر کے 5 بڑے اسپتالوں کے ساتھ منسلک کیا جانا تھا،تاہم اس اعلان کے ایک سال بعدبھی اس سروس کا آغازنہیں ہوسکا۔ پنجاب حکومت کی زیر نگرانی چلنے والا ادارہ ریسکیو1122 لوگوں کو مدد فراہم کرنے والا واحد سرکاری ذریعہ ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے کچھ عرصہ قبل یہ ہدایات جاری کیں گئیں تھی کہ سرکاری اور نجی ایمرجنسی سروسز ریسکیو1122کے پاس ایمبولسنسز کی تعداد کو رجسٹرڈ کرائے تاکہ بوقت ضرورت اس معلومات کو چیک اینڈ بیلنس کے اصول پر استعمال کیا جاسکے۔اس بارے میںریسکیو 1122 کے ترجمان فہیم جہانزیب کا کہنا ہے۔
پاکستان میں سرکاری اور نجی فلاحی اداروں کوعوام کی ضروریات کے مطابق جہاں ایمبولینسوں کی قلت کا سامنا ہے وہاں ٹریفک کے مسائل
عوام کو یہ سہولیات بہم پہنچانے میںاہم رکاوٹ ہےں۔اس مسئلے پرریسکیو 1122کے ترجمان فہیم جہانزیب کا کہنا ہے۔
اسی بارے میں المصطفی ویلفئیر سوسائٹی کے مناف الانہ نے ایک اور اہم بات بتائی۔
جبکہ عبدالستار ایدھی صاحب نے ایک اور نکتہ کی جانب توجہ مبذول کرائی۔
ایک اور مسئلہ کسی سانحے کے بعد مشتعل افرادکی جانب سے ایمبولینسوں کو نذرآتش کئے جانا ہے جسکی مثال بے نظیربھٹو کی شہادت یا گزشتہ سال یوم عاشورکے موقع پر ہونیوالے خودکش حملے کے بعدپھوٹ پڑنے والے فسادات ہیں۔جس دوران کئی ایمبولینسوں کو نامعلوم شرپسندوں نے نذرآتش کردیا تھا۔ ابھی حال ہی میں جناح اسپتال کے باہر ہونیوالے دھماکے میں بھی بہت سی ایمبو لینسوں کو نقصان پہنچا۔المصطفی ویلفئیر ٹرسٹ کے مناف الانہ کااس مسئلے کے حوالے سے کہنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *