بااثرقیدی جیلوں میں بیٹھ کرلوگوں کو اغوا اور پھر تاوان کیلئے مزاکرات کروارہے ہیں، پولیس کے اعلیٰ عہدیداران کی جانب سے سامنے آنیوالے اس انکشاف پر سنیئے پی پی آئی نیوزکا خصوصی فیچر
18اپریل 2009ءکو حیدرآباد جیل کے قیدیوں نے موبائل فون کے استعمال پرپابندی کیخلاف زبردست احتجاج کیا جس میں انکا ساتھ میرپورخاص جیل کے قیدیوں نے احتجاج اور ہڑتال کرکے دیا۔جس پر حیدرآباد کی جیل انتظامیہ نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے قیدیوں کوجیل کے اندرموبائل فون استعمال کرنیکی اجازت دیدی۔ اس واقعے کے تقریباً10 مہینے بعد یعنی 10 فروری 2010ءکوڈی آئی جی لاڑکانہ ثناءاللہ عباسی نے انکشاف کرتے ہوئے بتایاکہ سکھر اور لاڑکانہ جیل کے بعض قیدی جیل میں بیٹھ کر اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرواتے ہیں۔مختلف اخبارات کے مطابق اس حوالے سے انھوں نے 12 جنوری کو آئی جی سندھ اور آرپی اوسکھرکوایک خط بھیج کرسکھرجیل میں قیدچندڈاکوﺅں کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ بھی کیا تھا، تاہم اس پر اب تک کوئی کارروائی نہیںکی گئی۔
8فروری 2010ءکو ڈی پی او حیدرآباد جاویدعالم اوڈھونے بھی ایک پریس کانفرنس میںبتایا کہ اغوابرائے تاوان سمیت سنگین جرائم کی وارداتوں کی منصوبہ بندی جیلوں میں موبائل فونزکے ذریعے کی جارہی ہے۔انکا کہنا تھا کہ جیلوں میں قیدیوں کو ملنے والی آزادی کے باعث جرائم کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ،اس کی روک تھام کرنا ہوگی۔
Citizens-Police Liaison Committeeکراچی کے سابق سربراہ شرف الدین میمن نے بھی جیلوں کو مجرموںکی پناہ گاہیں قرار دیا۔
ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ سینٹرل جیل حیدرآباد علی بخش کے مطابق اس وقت جیل میں 1700قیدی ہےں جن میں سے متعددقیدیوں کے پاس موبائل فون موجود ہیں، جسکے ذریعے انکے رابطے جرائم پیشہ عناصرسے بھی ہوسکتے ہیں۔
پولیس عہدیداران کے انکشاف کے بعد10 فروری 2010ءکو صوبائی وزیرجیل خانہ جات سندھ مظفرشجرا نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کےا کہ جیلوں میں موبائل فون استعمال کئے جارہے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران انھوں نے بتایا کہ جیلوں میں موبائل فون استعمال کرنیکا غیرقانونی سلسلہ 2004ءمیں شروع ہوا، تاہم اس مسئلے پر 70فیصدتک قابوپالیا گیا ہے۔لیکن پی پی آئی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا۔
اسی دوران10 فروری کو سینٹرل جیل حیدرآباد میںجیل انتظامیہ کی جانب سے دو قیدیوں سے موبائل فون قبضے میں لیے جانے پر قیدیوں نے ہنگامہ آرائی کی اور5 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ پاکستان کی تمام جیلوں میں اکثرقیدیوں کے پاس موبائل فون ہوتے ہیں اور جب بھی جیل حکام موبائل فون یا دیگرممنوعہ اشیاءبرآمدکرنے کیلئے آپریشن کا منصوبہ بناتے ہیں تو قیدی بہانہ بناکر ہڑتال اور احتجاج کر دیتے ہیںجس کے بعد جیل حکام کو ہی گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔
جیلوں کے نظام میں پائے جانے والے نقائص، جیل اصلاحات اور اس صورتحال کے تدارک کے بارے میں سی پی ایل سی کراچی کے سابق سربراہ شرف الدین میمن چند تجاویز دے رہے ہیں۔
صوبائی وزیرسندھ جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ جیلوں میں 12 کروڑ روپے کی لاگت سے موبائل فون جیمرز لگائے جارہے ہیں۔
صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے تجاویز اور اقدامات اپنی جگہ، پر قانون کے محافظ کچھ اعلٰی افسران کا تو پس پردہ یہ بھی کہنا ہے کہ ملک بھر میں اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں ملوث ڈاکوﺅں کی سرپرستی جاگیردار اور وڈیرے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے شاہراہیں اور ان پر سفر کرنیوالے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ چند ماہ پیشتر خود آئی جی سندھ اپنے ایک بیان میں صوبے کی شاہراہوں کو غیر محفوظ قرار دے چکے ہیں۔
