اللہ تعالیٰ نے عورت کو بہن بیٹی،اور بیوی جیسے خوبصورت رشتے دے کر اس کو عظیم روپ دیا ہے، لیکن عورت کی اس عظمت کو بھی تسلیم نہیں کیا جاتا،جس کی ایک مثال ہمارے ملک میں موجود شیلٹر ہومز ےا دار الامان ہیں جہان ہمیں عورت کہ یہ سارے روپ ٹوٹے بکحرے نظر آتے ہیں،حوا شیلٹر کی صدررفعت رانی شیلٹر ہومز میں پناہ لینے والی خواتین کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں،
لاوارث خواتین کے لئے شیلٹر ہومز کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی اور ،شیلٹر ہومز خواتین کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں ےا نہیںاس بارے میں رفعت رانی کا کہنا ہے،
خواتین کے لئے اس کا اپنا گھردنیا میں سب سے محفوظ جگہ ہوتی ہے،لیکن خواتین اپنا گھر چھوڑ کر شیلٹر ہوم میں پناہ لے لیتی ہیں،جس کی بنیادی وجہ عدم تحفظ کا احساس ہے۔شیلٹر ہومز میں پناہ لینے والی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویش کا باعث ہے ،رفعت رانی اس کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی قرار دیتی ہیں،
اگر عورت کو دوسرے درجے کا شہری سمجھنے کی بجائے اس کہ یکساں حقوق دئے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسے انسان کا درجہ دے کر گھر کو اس کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ نہ صرف عورت کی صلاحیتیں مثبت طور پر کار آمد ثابت ہوں بلکہ انہی صلاحیتوں کی بدولت معاشرے کی مثبت تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکینگی۔