سیلز کے شعبے کو خالصتا مردوں کا شعبہ گردانا جاتا ہے،لیکن اس شعبے میں خواتین کی شمولیت بھی اب ایک عام بات نہیں رہی ۔بہت سی لڑکیاں اب اس شعبے میں بہت کامیابی سے کام کر رہی ہیں،دوسرے شعبوں کی طرح اب اس شعبے میں بھی خواتین کی شمولیت کو برا نہیں سمجھا جاتا،کومل خان ایک مشہور ٹیلی کام کمپنی میں بطور سیلز گرل کام کرتی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے لئے یہ شعبہ برا نہیں،
سیلز گرلز کا پیشہ اپنانے سے خواتین بہت پر اعتماد ہو جاتی ہیں،چاہے کسی بھی چیز کی مارکیٹنگ ہو خواتین بہت اعتماد سے اپنی کارکردگی دکھاتی ہیں،اس حوالے سے کومل خان کہتی ہیں۔
نجمہ نور بھی ایک سیلز گرل ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اور اکثر اوقات دفتر کے ساتھی بھی تعاون نہیں کرتے جس سے بہت پریشانی ہوتی ہے،
کومل خان کہتی ہیں کہ کہیں بھی سیل کے لئے جانے کے لئے وہاں کے ماحول کو پہلے دیکھنا پڑتا ہے،جبکہ گھر اور جاب کو بھی متوازن رکھنا پڑتا ہے،
خواتین کا نوکری پیشہ ہونا اب کوئی انہونی بات نہیں۔اب ہر اس شعبے میں خواتین موجود ہیں جہاں کبھی صرف مردوں کی اجارہ داری ہوا کرتی تھی،خواتین کو ہر شعبے میں کھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہئے ،تاکہ نہ صرف یہاں کی خواتین باعزت طریقے سے روزگار حاصل کر سکیں بلکہ پاکستان کی نصف آبادی سے بہتر طور پر فائدہ اٹھا کر پاکستان کی ترقی میں اضافہ کر سکیں۔