پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے معروف اداکار سلیم ناصر پندرہ نومبر انیس سو چوالیس کو ضلع مردان کے پشتون سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔
ان کا اصل نام سید شیر خان تھا اوراپنی زبان پشتو ہونے کے باوجود اردو پر انہیں کمال عبور حاصل تھا یہی وجہ تھی کہ اکثر لوگ انہیں پشتو بولتا دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔گریجویشن کے بعد وہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کراچی میں بحیثیت افسر شعبہ تعلقات عامہ لگ گئے، مگر اس شعبے کو اپنی منزل نہ سمجھتے ہوئے انھوں نے 1976ءمیں وحید مراد اور شمیم آرا کے ساتھ زیب النساءمیں کام کرکے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ اور یہاں سے ٹیلیویژن نے ان کے چھپے ہوئے فنکار کو بھانپ لیا۔آنگن ٹیڑھا میں اکبر کے نام سے کلاسیکل ڈانسر اور ملازم کے کردار نے سلیم ناصر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
معروف ڈرامہ ان کہی میں سلیم ناصر کے کردار ماموں کو ہٹا دیا جائے تو شاید اس ڈرامے کی اصل رونق ہی ختم ہوجائے۔اس کے بعد سلیم ناصر تاریخی ڈرامہ سیریل آخری چٹان میں سلطان جلال الدین خوارزم شاہ کی شکل میں نظر آئے جو شاید ان کے فنی کیرئیر کی سب سے بہترین اداکاری تھی۔نشان حیدر سیریز میں کیپٹن سرور شہید کے مرکزی کردار کے ساتھ بھی سلیم ناصر نے مکمل انصاف کیا اور سنجیدہ کرداروں میں بھی اپنی صلاحیت تسلیم کرالی۔
ءمیں بننے والی پی ٹی وی کی شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل جانگلوس سلیم ناصر کا آخری ڈرامہ ثابت ہوا۔سلیم ناصر کی پرتاثر ادائیگی اور ہر کردار میں ڈھل جانے کی صلاحیت انہیں اپنے زمانے کا منفرد اداکار بناتی تھی۔ سلیم ناصرکو اداکاری کے میدان میں اعلیٰ کارکردگی پر بعد از مرگ تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ سلیم ناصرانیس اکتوبرانیس سونواسی کوحرکت قلب بند ہونے کے باعث پینتالیس سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔