اردوادب میںنمایاں مقام رکھنے والے سعادت حسن منٹو11مئی1912ءکو مشرقی پنجا ب کے شہر لدھیانہ میں پیداہوئے ۔ میٹرک کے امتحان میں تین بار فیل ہونے والے لافانی افسانہ نگار نے جب 1931ءمیں میٹرک کا دوبارہ امتحان دیا تو اردو میں پھر فیل ہوگئے ۔سعادت حسن منٹو نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور پھر انڈین پروگریسو رائیٹرز ایسوسی ایشن سے منسلک ہوگئے۔یہاں منٹو کی ملاقات مصنف علی سردار جعفری سے ہوئی جس سے انکے انداز تحریر میں مزید نکھار آگیا۔ 24 سال کی عمر میں چھوٹی اردو کہانیوں کا مجموعہ آتش پارے 1936ءمیں شائع ہوا۔1936ءکے بعد منٹو بمبئی چلے گئے جہاں انہوں نے فلمی میگزین مصور کے لئے ایڈیٹر کے فرائض انجام دیئے ۔منٹو نے کئی ہندی فلموں کے لئے اسکرپٹ اور ڈائیلاگ بھی تحریر کئے۔26اپریل1936ءمنٹوکی شادی صوفیہ نامی خاتون سے ہوئی۔منٹو 1941ءمیں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہوئے اور پھر آنے والے18ما ہ میں ریڈیو ڈراموں کے 4 مجموعے شائع کئے جنکے نام آو¿،منٹو کے ڈرامے،جنازے اورتین عورتیں ہیں۔1942ءمیں ریڈیوکی ملازمت سے استعفی دےدیا اوربطور کہانی نگار ایک بار پھر فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔ پاک وہند کی تقسیم کے بعد جنوری1948ءکو منٹو پاکستان آگئے اور لکشمی منشن میں رہائش پذیر ہوگئے۔اس کمرے میں منٹو مرحوم نے ٹھنڈا گوشت،کھول دو،ٹوبہ ٹیک سنگھ،اس مجدھار میں،بابو گوپی ناتھ اور بہت سے شاہکار افسانے لکھے۔
منفرد اندازتحریرکی وجہ سے انکے پانچ افسانو ں پر مقدمے چلے ۔18جنوری 1955ءکو صبح ساڑھے سات بجے 42سال کی عمر میں سعادت حسن منٹو کا لاہور میں انتقال ہوگیا۔منٹو کے افسانوں کا ترجمعہ کئی غیر ملکی زبانوں میں ہوچکا ہے، وہ اردو کے واحد افسانہ نگار ہےں، جن کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہے۔