رمضان کا مہینہ اسلام میں نہایت بابرکت قرار دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسے بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر کراچی میں جاری خونریزی کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ٹارگٹ کلرز کے دلوں میں اس مقدس مہینے کا احترام بالکل بھی نہیں۔
مسافر بسوں پر فائرنگ کر کے معصوم لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے ۔امتحان دیکروالد کے ساتھ گھر واپس لوٹنے والی ایک طالبہ اپنے اوپر بیتی سناتے ہوئے ارباب اختیار سے سوال کر رہی ہے۔
کیا حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے ؟ 12 اگست کا وہ سفاکانہ واقعہ کون بھول سکتا ہے جب دہشت گردوں نے ایک منی بس کو روک کر اسے مسافروں سمیت جلا دیا تھا، جس میں ایک شخص تو موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا تھا جبکہ ایک بچی اوربچے سمیت کئی افراد ہسپتال میں چل بسے اور متعدد زخمی تاحال ہسپتالوں میں زندگی و موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اب سنتے ہیں کہ کراچی کی صورتحال نے معصوم بچوں کے ذہنوں پر کیا اثرات ڈالے ہیں۔
مجموعی طور پر اب تک کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے دوران اہم شخصیات سمیت سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہیں معاشی طور پر بھی اربوں روپے کا نقصان قومی خزانے کو اٹھانا پڑا ہے۔مگر سب سے زیادہ بے بسی وہ لوگ محسوس کررہے ہیں جن کے پیارے اس جنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں جبکہ ان کا کسی بھی گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان میں ماہ رمضان سے پہلے اور اس کے درمیان مہنگائی، اشیائے خورونوش کی کمیابی اور دیگر اخراجات میں بے پناہ اضافہ شاید پاکستانیوں کے لیے نئی خبرنہیں، مگر اس کے باوجود وہ اپنی حیثیت کے مطابق عیدالفطر منانے کی پوری پوری تیاری کرتے ہیں۔لیکن کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے شہر قائد کے لوگوں میں عید الفطر سے منسوب مسرت کا تصور بھی چھین لیا ہے۔دوسری جانب سندھ کے اضلاع بدین، ٹنڈو محمد خان ، میرپورخاص اور ٹھٹھہ وغیرہ میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے لاکھوں افراد کو بے گھر کردیا ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی عید کیسی بے سروسامانی اور آنکھوں میں امداد کی امیدلئے ہوئے گزرے گی۔
کراچی شہر اب مختلف قومیتوں کے درمیان علاقوں میں بٹتا جارہا ہے اور سیاسی تعصبات روز بروز شدید ہوتے جارہے ہیں۔اس پر مستزاد حکومتی غیرسنجیدگی ہے، خصوصاً وفاقی وزیر داخلہ کے عہدے پر براجمان رحمان ملک کے خیال میں رمضان کے مبارک مہینے میں قتل و غارت گری کا کھیل اور ٹارگٹ کلنگ کا کوئی واقعہ نہیں پیش آیاسوائے 19اگست کی رات پولیس کی بس پر ہونیوالے حملے کے۔
دوسری جانب اعلٰی سطح پر ایک بار پھرشروع ہونیوالا سیاسی جوڑ توڑ کا جاری سلسلہ حکومتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
