Promoting Peace through Pakistani rickshaws – پاکستانی امن رکشہ

پاکستان میں رکشہ عام طور پر سیاسی پیغامات یا رنگارنگ تصاویر کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں اور اب نوجوانوں کے ایک گروپ نے اس سواری کو امن کا پیغام پھیلانے کا ذریعہ بنالیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیںکی آج کی رپورٹ

ستر سالہ رکشہ ڈرائیور محمد سرفرار سڑک پر نکلنے کیلئے تیار ہیں، ان کی طویل سفید داڑھی کے باعث اکثر لوگ انہیں امن بابا بلاتے ہیں۔

محمد سرفراز”یہ امن رکشہ امن کا پیغام دیتا ہے، لوگوں کو اکھٹے ملکر اتفاق سے رہنا چاہئے، ایک دن میرے دوست نے مجھے ایک این جی او سے متعارف کرایا، جو میرے رکشے کو رنگنا چاہتی تھی، میں نے بخوشی انہیں پیغام لکھنے کی اجازت دیدی، یہ بہت خوبصورت ہے، ہر ایک جو یہ نعرے پڑھتا ہے انہیں پسند کرتا ہے، متعدد افراد مجھے میری گاڑی کے باعث امن بابا کہنے لگے ہیں”۔

اس امن رکشے پر دلچسپ اور مزاحیہ کلمات لکھے ہوئے ہیں، ایک دل محبت، برداشت اور امن کے عالمگیر پیغام کا پرچار کررہا ہے، ایک جگہ لکھا ہے میںرکشہ چلارہا ہوں، پستول سے گولی نہیں چلارہا، جبکہ ایک نعرہ ہے آئیں کراچی میں امن کی بات کریں۔

پاکستان بھر میں لاکھوں رکشے چل رہے ہیں اور انہیں اکثر سیاسی یا مذہبی پیغامات پھیلانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال ایک گروپ پاکستان یوتھ الائنس نے اس سواری کو مختلف مقصد کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ مریم خاور اس گروپ کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔

مریم خاور”جماعت الدعوة ملک کی انتہائی معروف جماعت ہے، وہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کے خلاف اپنا پیغام پھیلاتی ہے، ایسا لاہورم یں ہورہا ہے، جب ہم نے رکشہ اارٹ کو اس طرح کے مقاصد کیلئے استعمال ہوتے دیکھا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اسے امن اور برداشت کا پیغام پھیلانے کیلئے استعمال کیا جائے۔

ابتدائی طور پر پچاس رکشہ کے زریعے اس گروپ نے اپنا کام شروع کیا، اب ان میں مزید سو کا اضافہ ہوچکا ہے۔

مریم خاور”اب تک یہ تجربہ بہت اچھا ثابت ہوا ہے، میڈیا سے لیکر عام افراد، رکشہ ڈرائیورز، فنکار، مسافر غرض ہر ایک نے اسے سراہا ہے”۔

ڈرائیور جیسے کدر دین کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار کیلئے اچھا پیغام ہے۔

دین”میرے رکشے پر لکھا ہے زندگی کا نقصان ہمارا اپنا ہے، یہ گرنے والا خون ہمارا اپنا ہے۔ ایک مسافر کا کہنا ہے کہ یہ غور و فکر میں مبتلا کردینے والا بیان ہے، اس سے میری آمدنی بڑھی ہے اور میں روزانہ پانچ سے چھ سو روپے کمانے لگا ہوں”۔

پاکستان میں گزشتہ دہائی کے دوران انتہاپسندی اور دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔ متعدد پاکستانی جیسے منظور احمد آرائیں تحمل کے پیغام پھیلانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

منطور احمد”ملک میں امن قائم ہونا چاہئے، حکومت کیساتھ ساتھ شہریوں کو بھی اس ضرورت کا احساس کرنا چاہئے۔ میرا بیٹا کراچی میں ملازمت کرتا تھا مگرمیں نے اسے کہا کہ بھوکا مرجانا بہتر ہے بہ نسبت کہ تشدد اور قانون شکنی کا شکار ہوکر موت کا شکار بنے”۔