ساٹھ سے زائد ممالک نے ازبکستان میں ہونے والے میوزک فیسٹیول میں حصہ لیا، جس کا مقصد دنیا بھر کے تاریخی یا لوک موسیقی کو فروغ دینا تھا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
انتیس سا لہ د اود پز ہمان اپنے دوستوں کے ساتھ ہوٹل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں گانا گارہے ہیں۔
داود”یہ گانا بنیادی طور پر محبت کے بارے میں ہے، اس گانے میں ایک لڑکا اپنی محبوبہ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتاہے کہ وہ گاﺅں کیوں نہیں آرہی، اس نے مجھے اداس کردیا ہے، وغیرہ وغیرہ”۔
یہ تمام دوست شمالی افغانستان کے ایک چھوٹے سے گاﺅں سے یہاں آئے ہیں، انکا کہنا ہے کہ موسیقی کو اپنانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
داﺅد”جب میں بچہ تھا اور اپنے والد کیساتھ گانے کی کوشش کررہا تھا کہ مجاہدین وہاں آگئے اور پوچھا کہ تم ایسا کیوں کررہے ہیں؟ موسیقی حرام ہے، اگر طالبان کو معلوم ہوجاتا کہ آپ موسیقار یا گلوکار ہو تو وہ اس شخص کو قتل کردیتے تھے، میری ماں اور میرے گھر والے مجھے بہت روکتے تھے، مگر میرا موقف تھا کہ میں کچھ غلط نہیں کررہا، جس پر میرے والد کہتے تھے کہ یہ آخری بار ہے جب میں گانا گا رہا ہوں”۔
داﺅد پانچ سال سے زائد عرصے تک گا نہیں سکا، کیونکہ اسے قتل ہونے کا ڈر تھا، مگر یہاں آکر وہ بہت خوش ہے۔
یہ امریکہ کی لوک موسیقی ہے۔
انڈونیشیاءکی روایتی موسیقی کے آلات کے خاتمے کا ڈر ہے۔
ایرینا بوکو وا اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔
ایرینا”ہم سب کو یقین ہے کہ یہ ثقافت تخلیق کی بنیاد ہے، ماضی کے بارے میں ہمارا نظریہ ہی مستحکم مستقبل کا ویژن بنتا ہے، یہ ثقافتی ورثہ مستقبل کی تعیمر کیلئے ہمارے مضبوط ترین عناصر میں سے ایک ہے، یہ وجہ ہے کہ اس فیسٹیول شرق تارونالاری کو منانے کیلئے جمع ہوئے ہیں”۔
شرق تارونالاری یا مشرقی موسیقی نامی یہ فیسٹیول وسطیٰ ایشیاءکا سب سے بڑا ثقافتی ایونٹ مانا جاتا ہے، ہر دو سال بعد سمرقند میں ہونے والے اس فیسٹیول میں سینکڑوں باصلاحیت گلوکار، رقاص اور موسیقار جمع ہوکر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کچھ ممالک کی روایتی موسیقی دم توڑ رہی ہے، مگر اس فیسٹیول میں ان پر مقابلے ہوتے ہیں۔
تمام موسیقار اور گلوکار بہترین لوک گیت اور بہترین تاریخی موسیقی کے ایوارڈز کیلئے مقابلہ کررہے ہیں، ازبکستان کی منجوت یلداشیوا ججز میں شامل ہیں۔
منجوت”یہ فیسٹیول بنیادی طور پر موسیقاروں، فنکاروں اور ثقافت سے محبت کرنے والوں کی گم ہوجانے والی موسیقی کو دنیا کے سامنے لانے میں مدد کرتا ہے، جنوبی امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیاءکے فنکار اس فیسٹیول میں شرکت کرتے ہیں، انہیں لوگوں کو اپنی ثقافت کے بارے میں آگاہ کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ ہمارا ایوارڈ اور تھوڑی سی انعامی رقم سے بھی ان لوگوں میں اپنی ثقافت کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے”۔
تمام فنکار اپنی موسیقی ریجسٹن اسکو ئر میں شیئر کرسکتے ہیں۔
یہ لوگ ایک دوسرے کی زبانیں تو نہیں سمجھتے مگر معروف گلوکارہ گالت گیٹ کا کہنا ہے کہ موسیقی ہم سب کی مشترکہ زبان ہے۔
گالت “جی ہاں ہم ایک دوسرے کی باتیں تو سمجھ نہیں پاتے اور نہ ہی زبانوں سے واقف ہیں، مگر ہمیں صرف موسیقی کی زبان سمجھنے کی ضرورت ہے، اسی سے ہم اپنی ذات کا اظہار کرسکتے ہیں، میرے خیال میں دل سب سے اہم ہے، جب ہم اسٹیج پر جاتے ہیں، تو میرے کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنی حقیقی جذبات دیکھنے والوں تک پہنچاسکوں، میں اپنی زبان میںبا ت کرتی ہوں اور وہ میری بات کو سمجھ لیتے ہیں”۔
ہزاروں افراد گیت کے دوران رقص کررہے ہیں، جن میں چالیس سالہ بزنس مین بیٹیور اسمولوو بھی شامل ہیں، ازبکستان کے اس تاجر کو پہلی بار اسرائیلی موسیقی سننے کا موقع ملا۔
بیٹویور”میں صرف ازبک اور روسی زبان ہی بول سکتا ہوں، مگر یہاں مجھے متعدد زبانوں کے گیت اور موسیقی سننے کا موقع ملا، جب میں نے انہیں پہلی بار سنا تو میں نے انکے بارے میں دل سے جانا، جب دوسری میں نے انہیں سنا تو میں بھی انکے ساتھ گانے لگا”۔
داﺅد اور اس کی ٹیم نے میوزک مقابلے کا دوسرا انعام اپنے نام کیا، مگر اپنے وطن میں وہ موسیقار کی حیثیت سے کام نہیں کرسکتا اور وہ اکاﺅنٹنٹ کا کام کررہا ہے، مگر موسیقی انکا حقیقی جذبہ ہے، اور وہ دنیا کو اپنی موسیقی سے آگاہ کرنے کیلئے تاجکستان اور امریکہ بھی جاچکا ہے۔ وہ موسیقی کے ذریعے امن کا پیغام پھیلانا چاہتا ہے۔
