کھیل ہماری روز مرہ روٹین کو صحت مند رکھنے کیلئے بہت ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں خواتین کا رجحان کھیلوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔خواتین مختلف کھیلوں کو بطور کر یئر اپنا رہی ہیں لیکن افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ پاکستان میں مردوں کے مقابلے میںخواتین کھلاڑیوںکیلئے نہ صرف مواقع محدود ہیں،بلکہ خواتین کو اِس معاملے میں حوصلہ شکن رویوں کا بھی سامنا ہے۔
تنقید اگر برائے اصلاح ہو تو مثبت تصور کی جاتی ہے لیکن کچھ خواتین کھلاڑی ایسی بھی ہیں جو تنقید برائے تنقید کو بھی چیلنج سمجھتے ہوئے اپنے سفر کو کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہیں، انھیں میں خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ثنا میر بھی شامل ہیں جن کا اِس حوالے سے کہنا ہے:
تنقید اور حوصلہ شکن رویوں کو اگر چیلنج سمجھا جائے تو کامیابی کی راہ میں درپیش مشکلات بھی آگے بڑھنے اور حوصلہ بخشنے کا باعث بنتی ہیں۔قومی اور مقامی سطح پر درپیش مسائل اور مشکلات کا مقابلہ خواتین کھلاڑی بہت ہمت اور حوصلے سے کر رہی ہیں، اس جذبے کے ساتھ کہ ایک دن خواتین کھلاڑی بھی کامیابی سے اپنی منزل تک پہنچ سکیں گی نہ صرف یہ بلکہ خواتین کھلاڑیوں کو ملنے والی کامیابیوں کو بھی اعزاز سمجھا جائے گا اور اُسے قومی سطح پر بھر پور طریقے سے منایا کیا جائے گا۔
