PPF Workshop پی پی ایف ورکشاپ

FES  پاکستان پریس فاﺅنڈیشن پی پی ایف نے ایک جرمن ادارے

کی معاونت سے ریڈیو اور اخبارات کے جرنلسٹس کی تربیت کیلئے حیدرآباد میں 3تا5ستمبر2010ءایک ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ اس ورکشاپ میں سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے سندھ، پنجاب، خیبرپختونخواہ،بلوچستان اور آزادکشمیر کے ایف ایم ریڈیوز اور چنداخبارات سے بھی20 صحافی خواتین وحضرات شریک ہوئے، جنھوں نے ریلیف کیمپوں میں جاکر متاثرین کی مشکلات سے آگاہی کی، جسکے بارے میں گزشتہ ہفتے بھی آپ نے ہمارے فیچرمیں جانا، ریلیف کیمپوں میں مقیم متاثرین کو درپیش مزید مشکلات کا احوال آج کے فیچر میںسنئے۔
سیلاب سے بچ کر ریلیف کیمپوں میں پہنچ جانیوالے متاثرین خصوصاً بچوںکو بنیادی طبی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے وبائی امراض سے بھی خطرات لاحق ہیں۔

صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کیساتھ ساتھ سیلاب سے بے گھرہونیوالے خواتین اور بچوںکو رفع حاجت کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے بھی انتہائی دقت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
خواتین اور بچوں کے علاوہ بزرگوں کو بھی کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
متاثرین سیلاب کیلئے ایک اور بڑا مسئلہ غذائی امداد تک رسائی حاصل نہ ہونا ہے،حکومت اور غیرسرکاری فلاحی اداروں کے درمیان تعاون کا فقدان ہونے سے امداد کی تقسیم کا نظام انتہائی بدنظمی کا شکار ہے۔

ریلیف کیمپوں مقیم اکثر لوگ سیلاب کے دوران کھو جانیوالے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔

متاثرین کی ایک بڑی تعداد ریلیف کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں،اور سیلاب نے ان کے سر کی چھت، سال بھر کی خوراک کا ذخیرہ اور روزگار سمیت وہ تمام ذرائع چھین لیے ہیں جو ان کی عمر بھر کی پونجی اور زندگی بسر کرنے کے آسرے تھے۔اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکامی سے ان کی مشکلات میں روزبروز تیزی سے اضافہ ہوتاچلا جارہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور فلاحی ادارے باہم مل کر کام کریں، تاکہ متاثرین کسی حداپنے غم بھلاکر معمول کی زندگی کی طرف دوبارہ لوٹ سکےں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *