Philippines Gender Equality.. With Reservations – فلپائنی صنفی مساوات

عالمی سروے کے مطابق فلپائن صنفی مساوات کے حوالے سے سرفہرست ممالک میں سے ایک ہے، یہاں خواتین معیشت اور میدان سیاست میں نمایاں حیثیت کی حامل ہیں، اور اب یہاں دوخواتین بھی صدور منتخب ہوچکی ہیں، تاہم کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سروے حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

سینیٹر گریس ہو ئی فلپائنی سینیٹ میں بریفننگ کیلئے جارہی ہیں، 45 سالہ خاتون رواں سال کے شروع میں سینیٹ کی نشست پر منتخب ہوئی تھیں۔

گریس پو ئی”ایک ماں ہونے کی حیثیت سے میں قانون سازی کے عمل میں شامل ہونے کو اچھا سمجھتی ہوں، اس سے ہمیں اپنے مسائل بیان کرنے اور ان کے حل کی تجاویز پیش کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ ہمارے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے اور ہمارے ملک کے معاشرتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں بھی مدد ملتی ہے”۔

انکا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر فخر ہے اس وقت فلپائنی سینیٹ اور کانگریس کی ایک چوتھائی نشستوں پر خواتین بیٹھی ہوئی ہیں۔

گریس پو ئی”جنوبی مشرقی ایشیاءمیں ہمارے پڑوسی اور دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں خواتین کو فلپائن میں سیاسی قیادت میں نمایاں مقام حاصل ہے”۔

بیشتر عالمی مبصرین سینیٹر کی اس بات سے متفق ہیں، اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ فلپائنی خواتین کی بڑی تعداد کو سیاست اور ملازمتوں میں مواقع دستیاب ہیں، ماہر سماجیات کیرو لین سوبرٹشیا کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر خواتین اس دنیا میں صنف کرخت کے مقابلے میں زیادہ بہتر کردار ادا کرچکی ہیں۔

کیرو لین “فلپائنی خواتین بالکل انڈونیشین خواتین یا جنوب مشرقی خواتین کے طرح اپنے معاشرے میں طاقتور کردار ادا کررہی ہیں، وہ کاشتکاری میں حصہ لیتی ہیں، فیصلہ سازی کرتی ہیں، ان کے پاس اپنی زمینیں ہیں، ہمارے پاس بنیاد ہے، یعنی شروع سے ہی ثقافتی طور پر خواتین کو اہم کردار حاصل رہا ہے”۔

تاہم سوبرٹشیاکا کہنا ہے کہ اگرچہ فلپائن میں دو بار خواتین صدور منتخب ہوئیں مگر انھوں نے اپنی صنف کیلئے کچھ زیادہ نہیں کیا۔

سوبرٹشیا”خواتین سیاستدانوں کیلئے امور نسواں پر بات کرنا بہت مشکل ہے، انہیں اپنا احترام کروانے کیلئے کافی محنت کرنا پڑتی ہے، انہیں اپنی شناخت بنانا پڑتی ہے، اور حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی رہنماءامور نسواں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے”۔

الیزبیتھ انگسی اوکو ، ڈیموکریٹک سوشلسٹ وومن کی سربراہ ہیں، انکا کہنا ہے کہ عالمی رینکنگ میں فلپائن کی غلط تصویر پیش کی گئی ہے۔
الیزبتھ”عالمی رپورٹ کو دیکھنا اچھا تجربہ ہے کہ ہم بہتر کام کررہے ہیں، مگر زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ رپورٹ میں ہمارے عوام خصوصاً خواتین کی زندگی کی حقیقی صورتحال کا جائزہ پیش نہیں کیا گیا”۔

انکا کہنا ہے کہ برادری کی سطح پر خواتین کو ابھی بھی شدید غربت، بھوک اور گھریلو تشدد کا سامنا ہے۔

الیزبتھ”اگر آپ ڈیٹا کا جائزہ لیں تو کس قسم کے اقتصادی مواقع آپ کے سامنے آئیں گے؟ آپ دیکھیں گے کہ بیشتر خواتین غیررسمی کام کررہی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں قانونی طور پر تحفظ حاصل نہیں”۔

منیلا کے مریم کالج کی کچھ طالبات کا کہنا ہے کہ انہیں سیاست میں داخل اتنا آسان نہیں لگتا جتنا عالمی سروے میں بتایا گیا ہے۔ ریجانے کورٹز ٹوریکیمپو ایک طالبہ ہیں۔

ریجانے “میرا نام ریجانے کورٹز ٹو ریکیمپوہے، میری عمر انیس سال ہے اور میں انٹرنیشنل اسٹیڈیز پڑھ رہی ہوں، سیاسی خاندانوں سے آنے والی خواتین کو سیاست کے میدان میں کسی طاقتور خاندان سے تعلق نہ رکھنے والی خواتین کے مقابلے میں زیادہ مواقع ملتے ہیں”۔

انکی انیس سالہ ساتھی نکا ریورکا کہنا ہے کہ ناقص معیار تعلیم خصوصاً دیہات میں ہونے کی وجہ سے متعدد خواتین اپنے حقوق سے آگاہ ہی نہیں ہوتیں۔

نکا ریور”معلومات نچلی یا برادری کی سطح تک پہنتی ہی نہیں، اس لئے خواتین کو مختلف مواقعوں کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا، جن کے ذریعے وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہوسکتی ہیں”۔

مگر بیس سالہ جیلن گریس ٹورریز کا خیال کچھ مختلف ہے۔

جیلن “میں ایک اچھی مثال قائم کرنا چاہتی ہوں، خواتین ایسا کرسکتی ہیں، خواتین خدمت کرسکتی ہیں، خواتین ملک کی بہتری کیلئے سب کچھ کرسکتی ہیں اور وہ خواتین فرق پیدا کرسکتی ہیں”۔