پاکستان میں خواتین کیلئے اپنی پسند کی شادی کا فیصلہ آسان نہیں، اور اگر وہ ایسا کریں تو انہیں خاندان کیلئے باعث شرم قرار دیدیا جاتا ہے اور اکثر وہ غیرت کے نام پر قتل بھی ہوجاتی ہیں۔ ایسی متاثرہ خواتین حکومت کی قائم کردہ پناہ گاہ دارالامان میں پناہ لیتی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ
ثمینہ”میں نے ایسا سوچا تو نہیں تھا مگر میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک کزن کی محبت میں گرفتار ہوگئی، جو ہمارے قصبے میں گھومنے آیا تھا۔ میرے والدین مجھے اس سے شادی کی کبھی اجازت نہیں دیتے، اسی لئے ہم نے اسلام آباد بھاگ جانے کا فیصلہ کیا”۔
مگر اسلام آباد پہنچ جانے کے باوجود 26 سالہ ثمینہ بی بی اور ان کے شوہر کے مسائل ختم نہیں ہوسکے، ثمینہ کے گھروالوں نے اس کے شوہر کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج کرادیا اور وہ خود اپنے ہی خاندان کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچنے کی کوشش کررہی ہے۔ عدالت نے ثمینہ کو راولپنڈی میں واقع دارالامان بھیج دیا ہے۔
ثمینہ کو دارالامان میں ایک سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے اور یہاں موجود اکثر خواتین کی ایک ہی کہانی ہوتی ہے۔ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ایک ہزار خواتین و لڑکیاں گزشتہ سال غیرت کے نام پر قتل کردی گئی تھیں۔اسی طرح کے قتل غیرقانونی ہیں مگر نواحی و قبائلی علاقوں میں یہ رسوم ابھی بھی موجود ہیں، اور ایسی متاثرہ خواتین جن کے مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہوتے ہیں، انہیں دارالامان بھیج دیا جاتا ہے۔
اس پناہ گاہ میں خواتین کو سلائی کڑھائی اور ایسے ہی دیگر گھریلو امور کی تربیت بھی دی جاتی ہے، تاہم یہاں اکثر خواتین خود کو بے بس محسوس کرتی ہیں۔ جس جگہ ثمینہ موجود ہے وہ تیس افراد کیلئے قائم کی گئی تھی مگر اس وقت یہاں اسی خواتین مقیم ہیں، یہی وجہ ہے کہ ثمینہ کافی مشکل کا سامنا کررہی ہیں۔
ثمینہ”یہاں رہنا شامت اعمال کی حقیقی مثال ہے، اس جگہ کا مقصد مصیبت میں گھری خواتین کو پناہ فراہم کرنا ہے، مگر یہاں کا عملہ ہمارے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کرتا ہے، ہمیں ووکیشنل ٹریننگ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے مگر یہاں تیکنیکی سہولیات محدود ہیں، جبکہ کھانا بھی اچھا نہیں ہوتا۔ گھر کے اندر ہونے کے باوجود ہم پر مرد عملے کی جانب سے جنسی حملے کا خطرہ ہوتا ہے، میری کچھ سہیلیوں نے بتایا ہے کہ عملے کے کچھ افراد یہاں خواتین کو جسم فروشی پر بھی مجبور کرتے ہیں”۔
عالمی اداروں نے ملک بھر میں قائم پندرہ حکومتی پناہ گاہوں میں صورتحال بہتر بنانے کیلئے دباﺅ ڈالا ہے، کچھ این جی اوز نے ان متاثرہ خواتین کی مدد کیلئے اپنی پناہ گاہیں قائم کرلی ہیں،پچاس سالہ وکیل ضمیر عباسی کا کہنا ہے کہ حالات کو بہتر بنایا جانا چاہئے۔
ضمیر عباسی”پناہ گاہ ایک اچھا آئیڈیا ہے، مگر حالات بہتر بنانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، بے بس خواتین کو ان کے اندر متعدد مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کو ان پر قابو پانا چاہئے”۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال سے باخبر ہے، تاہم راولپنڈی دارالامان کے سربراہ افضل خان کا کہنا ہے کہ ہمارا بجٹ بہت محدود ہے۔
افضل خان”ہم دارالامان میں موجود خواتین کیلئے محدود وسائل کے باوجود سہولیات بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم حکومت ان پناہ گاہوں کو جدید بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی”۔
ثمینہ کا مقدمہ ابھی بھی زیرسماعت ہے، اور ایسے مقدمات عام طور پر دو سال سے زائد عرصے تک چل ہی جاتے ہیں۔ عدالت ہی ثمینہ کی قسمت کا فیصلہ کرے گی کہ وہ اپنے شوہر رہے گی یا اسے والدین کے پاس واپس جانا پڑے گا۔
ثمینہ”میری ایک ہی خواہش ہے اور میں اسے جلد از جلد پورا کرنا چاہتی ہوں، وہ یہ کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ ملکر دوبارہ نئی زندگی شروع کرنا چاہتی ہوں”۔