خواتین کا ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ہوتا ہے چاہے وہ خاتون خانہ ہوں ےا ورکنگ وومین،ہر جگہ اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔صحت کے شعبے میں مریضوں کی دیکھ بھال کی بنیادی ذمہ داری نرسوں کے کاندھوں پر ہوتی ہے ،لیکن اس شعبے میںبھی خواتین امتیازی سلوک کا شکار ہیں ۔
خیرالنساءایک مقامی اسپتال میں نرسنگ کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ،خواتین نرسوں کے بنیادی مسائل کے حوالے سے ان کا کہنا ہے،
خواتین نرسوں کو ان کی محنت و مشقت کا صلہ اس طرح سے نہیں دیا جا رہا جیسا کہ ان کا حق ہے،خیرالنساءتنخواہوں میں کمی کا شکوہ کرتے ہوئے کہتی ہیں،
دنیا بھر میں نرسنگ کو ایک معزز پیشہ جانا جاتا ہے اور اس شعبے سے وابستہ خواتین کو انتہائی عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے،جبکہ ہمارے معاشرے میں ایک خاتون نرس کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتاہے، خواتین نرسوں کو جنسی طو ر پر ہراساں کیا جاتا ہے جبکہ مریضوں کے ساتھ موجود عزیز و اقارب کا رویہ بھی ہتک آمیز ہوتا ہے، خواتین نرسیں ان مسائل کا سامنا کس طرح کرتی ہیں ،اس بارے میں خیرالنساءکا کہنا ہے۔
اعجاز کلیری پرونشل نرسنگ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں ،خواتین نرسوں کو پیش آنے والے مسائل کے حل کے لئے ان کی طرف سے کیا اقدامات کئے گئے ہیں ،اس بارے میں ان کا کہنا ہے،
خواتین نرسوں کی کم تنخواہوں کی شکایات کے ازالے کے لئے کیا کیا اقدامات کئے گئے ہیں ،اس حوالے سے اعجاز کلیری کا کہنا ہے،
دنیا بھر میں نرسنگ کے شعبے کو ترقی دینے کے لئے ہر طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ،جبکہ پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ عدم توجہی اور ناقدری کا شکار ہے،جس کی ایک مثال اس شعبے کے لئے کوئی یونیورسٹی اور رسرچ ادارے کا نہ ہونا ہے،اس بارے میں صدر پرونشل نرسنگ ایسوسی ایشن اعجاز کلیری کا کہنا ہے،
نرسنگ جیسے معززشعبے خدمات سر انجام دینے والی خواتین کو پیش آنے والے یہ گھمبیر مسائل ارباب و اختیار کے لئے لمحہءفکریہ ہیں ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مسائل کی طرف نہ صرف فوری توجہ دی جائے بلکہ ان کے حل کے فوری اقدامات بھی کئے جائیں،تا کہ خواتین نرسوں میں پائی جانے والی ان تمام محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکے۔