گزشتہ ہفتے بحیرہ عرب سے اٹھنے والا طوفان سندھ کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد کم درجے کے دباو¿ کی شکل اختیار کرکے بھارت کی جانب مڑگیا تھا۔بحیرہ عرب سے اٹھنے والا طوفان اتوار کی رات ساڑھے نو بجے سندھ میں ضلع ٹھٹھہ کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھاجس سے سمندر میں 12 سے 14فٹ اونچی لہریں اٹھی تھیں۔طوفان پیٹ کی وجہ سے گوادر اورکراچی سمیت صوبہ سندھ اور بلوچستان کے کئی شہروں میں شدید بارشیں ہوئیںجسکے نتیجے میں کرنٹ لگنے یا مکانات گرنے کی وجہ سے 20 سے زائد افرادجاں بحق ہو گئے ۔
پاکستان کا خطہ زلزلوں،سمندری طوفان یا دیگر قدرتی آفات اور ان کے نقصانات کے لحاظ سے خاصا خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سمندری طوفان کی تاریخ اور اسکے خطرات کے بارے میں محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ محمدریاض کا کہنا ہے کہ مئی، جون، ستمبر، اکتوبر اورنومبر میں ہرسال طوفان کا خطرہ ہوتا ہے۔
ان تمام خطرات کے باوجود یہاں زلزلوں یا دیگر آفات کے خطرات سے نمٹنے کی تدابیر خاصی ناقص رہی ہیں۔اس بارے میں ریسکیو سروس 1122کے ڈائریکٹرجنرل رضوان نصیرکا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے بنیادی انفراسٹرکچر موجود نہیں۔
شمالی علاقہ جات، کشمیر، بلوچستان کا شمال مغربی علاقہ، کراچی سے مکران تک کا ساحلی علاقہ اور ملک کا جنوب مشرقی علاقہ زلزلے کےلئے انتہائی خطر ناک یا ہائی سیسمک زون کہا جاتا ہے،جسکامطلب ایسا علاقہ جہاں کئی خطرناک زلزلے آچکے ہیں،یہی وجہ ہے کہ8 اکتوبر 2005ءکو کشمیر میں 7.6 کی شدت کا زلزلہ ہزاروں افراد کی جانیں لے گیا تھا، جبکہ 2008ءمیں بلوچستان کے کئی اضلاع میں آنیوالے زلزلے سے سینکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں بے گھر ہوگئے تھے۔اسی طرح مکران کا ساحلی علاقہ جو کہ زون 9 میں شامل ہے، زلزلے کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس علاقے میں زلزلے کی صورت میں گوادر سے کراچی تک کا ساحلی علاقہ متاثر ہو سکتا ہے۔آبادی میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قدرتی آفات کی شدت اور نقصانات میں بھی وقت کے ساتھ اضافہ یقینی ہے۔آزادکشمیر اور صوبہ سرحد کے کئی علاقوں کو تہہ وبالا کردینے والے زلزلے کے بعد 2006ءمیں حکومت نے قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی NDMAکے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔محمدبلال این ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ہیں جواسکے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
پاکستان میں قدرتی آفات کی پیشگی اطلاعات کے حوالے سے محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ محمدریاض کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں اس حوالے سے دوطرح کے آلات استعمال کئے جاتے ہیں، پاکستان میں بھی محکمہ موسمیات انہی آلات کو استعمال کررہا ہے۔
تاہم یہ امر خاصا افسوسناک ہے کہ زلزلوں یا دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی پیشگی تیاری ہمیشہ سے ناقص رہی ہے۔ 8 اکتوبر 2005ءکے زلزلے کے بعد کی صورتحال ہو ، عطاآباد جھیل کا معاملہ ہو یا حالیہ سمندری طوفان، پاکستان کی یہ کمزوری پوری طرح سے سامنے آجاتی ہے۔ریسکیو1122کے ڈائریکٹر جنرل رضوان نصیرصورتحال بہتر کرنے سے متعلق چند تجاویز پیش کررہے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد 1970ءتک خطرناک حالات سے نمٹنے کے لئے حکومتی سطح پر قدرتی آفات اور ان کے اثرات سے نمٹنے کے لئے سول ڈیفنس کے علاوہ کسی ادارے کا وجود نہ تھا۔ 1970ءمیں اس وقت کے مشرقی پاکستان میں آنے والے سمندری طوفان کے نقصانات پر قابو پانے کے لئے ایمرجنسی ریلیف سیل قائم کیا گیا جو کہ لمبے عرصے تک آفت زدہ علاقوں میں ہنگامی امداد پہنچانے والا واحد حکومتی ادارہ تھا۔ حکومتی سطح پر آفات سے نمٹنے کے نظام کو بروقت اہمیت نہ دینے کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس طرح کا نظام قائم کرنے کے لئے پاکستان میں ابھی تک استعدادپیدا نہیں ہو سکی ہے۔پاکستان کی گذشتہ کم ازکم 60برس کی تاریخ میں آفات سے نمٹنے والے انتظامات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پالیسی سازوں کے نزدیک صرف سیلاب ہی قدرتی آفت کی تعریف پر پورا اترے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے بھی ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاسکے۔ این ڈی ایم اے کے ڈائریکٹرایڈمنسٹریشن محمدبلال کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے ملک بھر میں مختلف تربیت یافتہ ٹیمیںکام کررہی ہیں۔
حالیہ سمندری طوفان سے ہونیوالے مالی نقصان کا تخمینہ تاحال نہیں لگایا جاسکا، جبکہ حکومتی سطح پر متاثرین کی بھرپور امداد کے دعوﺅں کے باوجود متعدد افراد کو بروقت امداد نہیں مل سکی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی کو زیادہ موئژطورپرفعال کرنیکے لئے جدید ترین آلات اور امدادی کارکنوں کی تربیت کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں، جبکہ صوبوں کی سطح پر بھی ایسے ادارے قائم کئے جانے چاہئےں، جو ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تربیت یافتہ ہوں،تاکہ مستقبل میں اس طرح کی قدرتی آفات میں جانی ومالی نقصان کو کم سے کم رکھا جاسکے۔
