Ministries Transferred to Provinces صوبوں کو وزارتوں کی منتقلی

    18ویں ترمیم پر عملدرآمد کے سلسلے میں وفاقی حکومت نے 5وفاقی وزارتیں رواں ہفتے صوبوں کو منتقل کردی ہیں۔ اس بات کا اعلان 18ویں ترمیم عملدرآمد کمیشن کے چیئرمین سینیٹررضاربانی نے کیا۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مرکزی حکومت نے وفاقی وزارتیں صوبوں کو منتقل کی ہیں،جسکے بعد پانچ وفاقی وزیر، ایک پارلیمانی سیکرٹری اور سات قائمہ کمیٹیاں فارغ کردیئے گئے ہیں۔پہلے مرحلے میں جو پانچ وزارتیں صوبوں کے حوالے کی گئی ہےں ان میں بلدیات اور دیہی ترقی، بہبود آبادی، خصوصی اقدامات، امور نوجوانان اور زکوة و عشر شامل ہیں۔ ان وزارتوں کی املاک اور قرضے بھی صوبوں کے ذمے ہوں گے اور رواں مالی سال کے لیے مختص بجٹ صوبوں کو منتقل ہو جائیگا تاہم انکے 3700ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا۔
وزارتوں کی منتقلی کے عمل پر خیبرپختونخوا حکومت کے سنئیر وزیربشیراحمد بلور کا کہنا ہے کہ اس سے صوبوں کو زیادہ خود مختاری ملے گی۔
صوبوں کی منتقلی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی کا کہنا ہے کہ اس عمل سے صوبے اور وفاق دونوں مستحکم ہوں گے۔
وزیرقانون پنجاب رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ وزارتوں کی منتقلی سے محکمانہ معاملات میں بہتری آئیگی اور عوام کو فائدہ ہوگا۔
بلوچستان کا تو ہمیشہ سے ہی صوبائی خودمختاری کا مطالبہ رہا ہے، تاہم بلوچستان کے وزیر برائے خدمات و انتظامی امور سردار ثنااللہ زہری موجودہ عمل کو صوبوں کے منہ میں لالی پاپ دینے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

آئینی کمیٹی اور 18ویں ترمیم عملدرآمد کمیشن کے چیئرمین سنیٹر میاں رضا ربانی کے مطابق وزارتوں کی منتقلی کے سلسلے میں اثاثوں اور ادائیگیوں پر وفاق اور صوبوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انکے مطابق18ویں ترمیم کے تحت جو 19وفاقی وزارتیں ختم ہونگی ان میںصحت، تعلیم ،سیاحت، ثقافت، بہبود آبادی، زکوٰة و عشر، مذہبی امور، اقلیتی امور، کھیل، امور نوجوانان ، ہاو¿سنگ و تعمیرات، محنت و افرادی قوت، ماحولیات اور جنگلات، خوراک و زراعت و لائیو اسٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعت و پیداوار ، سائنس و ٹیکنالوجی، سماجی بہبود و خصوصی تعلیم اور خصوصی اقدامات شامل ہیں۔جبکہ 29وزارتیں بدستور وفاق کا حصہ رہیں گی۔ ان میں خارجہ، داخلہ، دفاع، دفاعی پیداوار، خزانہ، کابینہ، ریلوے، پورٹس اینڈ شپنگ، مواصلات ، ٹیلی کام، پوسٹل سروسز، اسٹیبلشمنٹ ، منصوبہ بندی، قانون و انصاف، اقتصادی امور، پارلیمانی امور، تجارت، پٹرولیم و قدرتی وسائل، نارکوٹکس کنٹرول، انسانی حقوق، اطلاعات و نشریات، بین الصوبائی رابطہ، سرمایہ کاری، امور کشمیر و گلگت بلتستان، نج کاری، ریونیو ڈویژن، ریاستیں و سرحدی امور، پانی و بجلی اوراوورسیز پاکستانی ڈویژن شامل ہیں ۔
ذرائع کے مطابق آئندہ سال فروری میںمزید پانچ وزارتیں صوبوں کو منتقل کر دی جائیں گی جن میں وزارت تعلیم، صحت، سیاحت، سماجی بہبود وخصوصی تعلیم اور ثقافت شامل ہیں۔ صوبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ وفاقی وزارتوں کی منتقلی سے قبل قانون سازی کا عمل مکمل کرلیں۔جبکہ صوبے ان ذمہ داریوں کے حوالے سے کتنے تیارہیں، اس بارے میںخیبرپختونخواہ کے سنئیر وزیر بشیر احمد بلور کا کہنا ہے۔
پنجاب حکومت کا مطالبہ ہے کہ وزارتوں کو بجٹ میں مختص فنڈز کیساتھ منتقل کیا جائے۔

جبکہ سردارثناءاللہ زہری کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت خراب مالی حالات میں وفاقی وزارتوں کے ملازمین کا بوجھ نہیں اٹھاسکتی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوںکے ملازمین کی سروس گارنٹیز بھی تیار کی جارہی ہیں تاکہ ان کی سینیارٹی متاثر نہ ہو، تاہم ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق محنت و افرادی قوت، تعلیم ، ماحولیات اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت بعض اداروں نے وفاقی حکومت کو مراسلے بھیجے ہیں جن میں تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے کہ صوبوں کو منتقلی سے ان وزارتوں کے ساتھ اقوام متحدہ و دیگر عالمی اداروں اور ملکوں کے مملکتی ضمانتوں کے ساتھ معاہدے متاثر ہوسکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وزارتوں کی منتقلی کا یہ عمل کس حد تک عوام کیلئے مفید ثابت ہوتا ہے۔سرکاری اداروں میں کرپشن اور لوگوں کو چکر لگانے پر مجبورکرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں، تاہم توقع کی جاسکتی ہے کہ وزارتوں کی صوبوں کو منتقلی کے عمل سے سرکاری مشینری کا کام تیزاور کرپشن میں کمی آئیگی، ورنہ یہ عمل محض نمائشی اقدام بن کر رہ جائیگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *