Mian Channu Tragedy سا نحہ میا ں چنو ں
میاں چنوں کے نواحی علاقے موسی ورک کے قریب ریلوے کراسنگ کوعبورکرتے ہوئے اسکول وین اور کوئٹہ سے آنیوالی ٹرین جعفرایکسپریس کے درمیان تصادم ہوگیا، جسکے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین بچوں سمیت 13 ننھے طالبعلم جاں بحق اور13 زخمی ہوگئے۔یہ حادثہ وین ڈرائیورکی غفلت کیساتھ ساتھ انتظامیہ کی لاپرواہی کا بھی نتیجہ تھا، مقامی رہائشیوں کے مطابق اس جگہ پہلے بھی حادثات ہوتے رہے ہیں اور مقامی انتظامیہ سے متعددباریہاں پھاٹک کی تعمیرکیلئے درخواست کی گئی تھی۔حادثے کے بعد کوئی بھی اسکی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں اور مرحوم ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کرکے کیس کو حسب سابق ہمیشہ کیلئے فائلوں میں دبانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔
اس ضمن میں سب سے دلچسپ مگرافسوسناک بیا ن وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے دیا جنہوں نے فرمایا کہ ٹرین نے سڑک پر اتر کرتو وین کو ٹکر نہیںماری، ڈرائیور کی غلطی ہے اس نے ٹرین کو کیوں نہیں دیکھا۔
خودریلوے کی جانب سے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کل 3792 ریلوے کراسنگ ہیںاور ان میں سے 2451ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہیں ہیں۔
منظوراحمد رضی ریلوے ورکرز یونین کے سینٹرل چئرمین ہیںاور گزشتہ 40سالوں سے پاکستان ریلوے سے منسلک ہیں انہوں نے اس حوالے سے کی گئی لاحاصل کاوشوں کے بارے میں بتایا۔
اس حادثے کو گزرے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ پنجاب میں ہلوکی ریلوے سٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک عبور کرتے ہوئے ایک شخص اپنے دو بچوں اور ایک مہمان خاتون سمیت عوام ایکسپریس تلے کچلا گیاجبکہ اسکی بیوی معجزانہ طور پر محفوظ رہی۔اسی دوران کراچی میںبھی لانڈھی اور کینٹ سٹیشن کے قریب دومختلف حادثات میں ایک 50سالہ شخص اور ایک18 سالہ لڑکی ٹرین تلے آکر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ مجموعی طور پرملک بھرمیں2005ءسے 2009ءکے دوران 533ریل حادثات ہوئے جن میں سے ریلوے کراسنگ عبور کرتے ہوئے 205حادثات ہوئے ۔ان میں تین سوسے زائد افراد جاں بحق اور چھ سو کے قریب زخمی ہوئے۔
ایس ایس پی ریلوے کراچی ڈویژن مظفر علی شیخ نے حادثات کے اعدادوشمار بتاتے ہوئے کہا۔
ریلوے پولیس کے مطابق کراسنگ اور پل کے علاوہ ٹریک عبور کرنا ریلوے ایکٹ122 کے تحت جرم ہے۔ ریلوے پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل محمد اسلم اس بارے میںبتارہے ہیں۔پاک ریلوے کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ شاہدمہارکے مطابق میاں چنوں میں ہونیوالے حادثے میں ریلوے کا کوئی قصورنہیں۔ ملک بھرمیں موجود ریلوے کراسنگ پر پھاٹک کی تعمیر اور ان پر تعینات عملہ محکمہ ریلوے سے تعلق رکھتے ہیں مگر ڈائریکٹر تعلقات عامہ پاکستان ریلوے کا کہنا ہے کہ کراسنگ پرپھاٹک تعمیرکرنے کی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکومت کی ہے۔
میاں چنوںسانحے کے فوراًبعد وزیراعظم کے حکم پر میاں چنوں میں تین ریلوے کراسنگ پر پھاٹک اور چوکیداروں کا انتظام کردیاگیا،مگر غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ہر اہم اقدامات پر عملدرآمد کیلئے ہم یونہی حادثات کے منتظر رہیں گے۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |

Leave a Reply