اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ معاشرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔دیکھا جائے تو زمانے کی ترقی کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے۔خواتین کے بارے میں بہت سارے تصورات اور نظریات اب تبدیل ہو چکے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کے نا انصافی برتی جا رہی ہے۔
عام طور پر ایک مرد خود کو عقل مند ،مظبوط اور عورت کوکمزور اور ناقص العقل سمجھتا ہے۔ایک ایسی کنیز جو اس کا ہر حکم بے چون چرا بجا لائے۔مرد کی اس عورت کے بارے میں اس مخصوص سوچ کی وجوہات جانتے ہیں رفعت پروین سے جو نیشنل آرگنائزیشن فار ورکنگ کمیونیٹیز کی رکن ہیں۔
مرد کی اس حاکمانہ سوچ کے بارے میں سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سیمسن سلامت کہتے ہیں،
عورت گھر داری سے لے کر بچوں اور رشتہ داروں کی خدمت ساری عمر بلا معاوضہ کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ بیشتر خواتین گھر کے ساتھ ساتھ باہر کے کاموں اور گھر کی گاڑی کھینچنے میں بھی مرد کا شانہ بشانہ ساتھ دیتی ہے،لیکن مرد کاخود کوبرترسمجھنے کا یہ رویہ عورت کی کارکردگی پر بہت منفی اثر ڈالتا ہے،اس بارے میں رفعت پروین کا کہنا ہے،
مردوں کے حاکمانہ روئے اور سوچ میں تبدیلی کس طرح ممکن ہے اس بارے میں رفعت پروین کہتی ہیں،
سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سیمسن سلامت کے مطابق ہمارے معاشرے میں عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا ہے،اسی لئے وہ اپنے بنیادی حقوق سے محرومی اور مردوں کی طرف سے استحصال کا شکار ہے،سیمسن سلامت کے مطابق عورت کے بنیادی حقوق کے حوالے سے واضح قوانین اور ان پر عملدر آمدسے مردوں کی سوچ میں تبدیلی لا ئی جا سکتی ہے،
عورت ماں ہو،بہن ہو،بیٹی ہو یا بیوی،اس کی صلاحیتوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا،کسی بھی معاملے میں مشورہ لینے کے قابل بھی نہیں سمجھا جاتا،یہ کہہ کہ ،کہ عورت تو ناقص العقل ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے کے مردوں کو اسی سوچ کو تبدیل کرنے کی نہایت ضرورت ہے،کیونکہ عورت تو ان تمام رشتوں میں انتہائی معزز اور سراپا محبت و شفقت ہوتی ہے،تاہم ہمارے معاشرے کی عورت کی مظبوط حیثیت کو تسلیم کرنے ،اس کو مکمل تحفظ فراہم کرنے اور برابری کی حیثیت دینے کے لئے ہر سطح پر کوششیں کی جانی چاہئیں تب کہیں جا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔