Meet Burka Avenger, Pakistan’s First Female Heroپاکستان کی پہلی سپرہیرو

برقع میں ملبوس اس خاتون سے پنگا لینے کی کوشش نہ کریں، سیاہ برقعے میں چھپی اور کتابوں و قفلم سے ہتھیار کا کام لینے والی یہ خاتون لڑکیوں کی تعلیم کے حق کا دفاع کررہی ہے۔ یہ ہے پاکستان کی پہلی خاتون سپرہیرو برقعہ ایوینجر۔پاکستان کے اس پہلے تاریخ ساز کارٹون کے حوالے سے سنتے ہیں آج کی رپورٹ

رات کے وقت یہ خاتون سیاہ برقعے میں یہاں وہاں اڑ کر ایسے برے لوگوں کا مقابلہ کرتی ہے جو لڑکیوں کے اسکول بند کرنے کے خواہشمند ہیں، جبکہ دن میں جیا نامی یہ خاتون پڑھانے کا کام کرتی ہے۔

یہ کارٹون سیریز ایک خیالی شہر حلوہ پور میں سرگرم برقعہ ایوینجر کے گرد گھومتی ہے، یہ ہیروئین کتاب اور قلم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ کراٹے کی بھی ماہر ہے۔

برقعہ ایوینجر ولن جیسے برے جادوگر بابا بندوق کا مقابلہ کرتی ہے، جبکہ اس کے مدمقابل ایک کرپٹ سیاستدان واڈیرو پاجیرو بھی ہے، ان دونوں کے خیال میں لڑکیوں کی تعلیم غیرضروری ہے۔ برقعہ ایوینجر کا مرکزی خیال پاکستان کے معروف پاپ گلوکار آرون ہارون رشید کا ہے۔

ہارون”یہ پہلی پاکستانی ہیرو ہے اور یہ ناقابل یقین طاقت کی حامل سپرہیرو ہے، یہ جیا ہے جو ایک اسکول میں پڑھاتی ہے، یہ بچوں کو تمام اہم چیزیں سیکھاتی ہے، مگر جب وہ برے لوگوں سے لڑ رہی ہے تو وہ سپرہیروز کی طرح اپنی شناخت چھپالیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے برقعہ ایوینجر کہا جاتا ہے”۔

ہارون نے اس کارٹون کیلئے انگریزی گیت لیڈی ان بلیک بھی گایا ہے۔

اس سیریز میں مختلف موضوعات جیسے تشدد، لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور امن وغیرہ پر بات کی گئی ہے۔

یہ سیریز ملالہ یوسفزئی ی زندگی سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے، لڑکیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی یہ طالبہ گزشتہ برس طالبان کی فائرنگ سے زخمی ہوگئی تھی، جس کے بعد سے وہ برطانیہ میں مقیم ہے، گزشتہ دنوں اس نے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں خطاب بھی کیا۔

ملالہ” نو اکتوبر 2012ءکو طالبان نے میری پیشانی پر گولی ماری تھی، انھوں نے میری سہیلوں کو بھی گولیاں ماریں، ان کا خیال تھا کہ گولیاں ہمیں خاموش کردیں گی تاہم وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوگئے”۔

کارٹون میں برقعے کا استعمال ان پاکستانی حلقوں پر تنقید ہے جو چاہتے ہیں کہ خواتین اپنا پورا جسم ڈھانپ کر رکھیں، تاہم 32 سالہ صحافی شہزاد خان کے خیال میں اس سیریز میں برقعے کے استعمال سے غلط فہمی پیدا ہورہی ہے۔

شہزاد خان”پاکستانی قدامت پسند معاشرے میں برقعے کو جبر اور دباﺅ کا نشان سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس کارٹون سیریز میں برقعے کو ایک ہیرو کی تصویر کی حیثیت سے دکھایا جارہا ہے، تو اس کی وجہ سے ناظرین الجھن کا شکار ہیں کہ انہیں کونسا پیغام دیا جارہا ہے”۔

تاہم عالمی سطح پر اس سیریز پر کافی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور برقعہ ایوینجرز کو لڑکیوں کیلئے کسی ڈزنی شہزادی کے مقابلے میں زیادہ مثالی کردار سمجھا جارہا ہے۔ 45 سالہ رخسانہ حیات اسلام آباد ماڈل اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ وہ خوش ہیں کہ اس کردار کے ذریعے اساتذہ اور تعلیم کے کردار کو اجاگر کیا جارہا ہے۔

رخسانہ حیات”ملک کے مختلف اسکولوں میں اسکولوں کی تباہی اور اساتذہ کے عدم تحفظ کی موجودہ صورتحال میں اس کے ذریعے دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا جاسکے گا”۔

پاکستان میں گزشتہ چار برسوں کے دوران لڑکیوں کے آٹھ سو سے زائد اسکولوں کو تباہ کیا جاچکا ہے، جبکہ نصف سے زائد
پاکستانی ان پڑھ ہیں۔ دس سالہ سدرہ ساجد کا کہنا ہے کہ برقعہ ایوینجر اس کی نئی ہیرو ہے۔

سدر”اس کارٹون میں جیا کا کردار بہت زبردست ہے، وہ لڑکیوں کے تحفظ کیلئے بہت اچھا کام کررہی ہے اور ہمیں تعلیم حاصل کرنے کے حق سے آگاہ کررہی ہے”۔