یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی جیسے سینکڑوں لازوال گیتوں سے پاکستانی فلمی صنعت کو منور کرنے والے معروف شاعر اور کہانی کار مسرور انور کو دنیا سے گزرے آج 16 برس بیت گئے۔
مسرور انور 5 جنوری 1944ءکو غیر منقسم ہندوستان کے شہر شملہ میں پیدا ہوئے۔برصغیر کی تقسیم کے بعد وہ پاکستان آگئے اور 1950ءکی دہائی میں امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستانی فلمی صنعت میں سرگرم ہوگئے۔
1962ءمیں انھوں نے اپنی پہلی فلم بنجارن کے لئے گیت لکھے تاہم انہیں اصل شہرت وحید مراد کی فلم ہیرا اور پتھر کے گیتوںسے ملی۔ جس کے بعد مسرور انور، احمد رشدی اور سہیل رعنا کی ایک ٹیم سامنے آئی جس نے متعدد سپرہٹ گیتوں کو تخلیق کیا۔
1965ءکی جنگ کے موقع پر مسرور انور کے ولولہ انگیز گیتوں نے پوری قوم کا خون گرما دیا، مہدی حسن کی آواز میں اپنی جان نذر کروں جیسا لازوال گیت تخلیق ہوا تو سوہنی دھرتی جیسے ملی نغمے کو کون بھول سکتا ہے۔
مسرور انور کی زندگی میں 1966ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ارمان کو بہت اہمیت حاصل ہے جس کا ہر گیت سپر ہٹ ثابت ہوا مثال کے طور پر اکیلے نہ جا ناہمیں چھوڑ کر تم یا کوکو کو رینہ جیسے گیتوں کو کون بھول سکتا ہے۔
اس ٹیم نے دوراہا کے گیت ہاں اسی موڑ پر کو لازوال بنایا تو فلم احسان کے گیت ایک نئے موڑ پر لے آئے ہیں حالات مجھے نے بھی شہرت کی نئی بلندیوں کو چھوا۔
مسرور انور اور نثار بزمی کی جوڑی بھی بہت مقبول ہوئی۔ مثال کے طور پر فلم لاکھوں میں ایک کا گیت چلو اچھا ہوا تم بھول گئے، فلم صاعقہ کا اک ستم اور میری جان ابھی ہے، فلم عندلیب کا کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے، فلم انجمن کا گیت اظہار بھی مشکل ہے چپ رہ بھی نہیں سکتے آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔
تاہم فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد وہ آہستہ آہستہ پیچھے منظر سے غائب ہونے لگے تاہم کئی فلموں میں انھوں نے اپنے فن کا جادو جگایا، جن میں فلم مشکل کا گیت دل ہوگیا ہے تیرا دیوانہ بہت ہٹ ہوا۔
اداکار شان کی پہلی فلم بلندی مسرور انور کی آخری ہٹ فلم ثابت ہوئی اور یکم اپریل 1996ءکو یہ البیلا شاعر اس دنیائے فانی سے منہ موڑ کر چلا گیا، تاہم ان کے لازوال گیت آج تک لوگوں کی زبانوں پر رواں ہیں۔
