Maleka e Pukhraj’s Death Anniversary ملکہءِ پکھراج کی برسی

ماضی کی ممتاز گلوکارہ ملکہ پکھراج کو دنیا سے بچھڑے آج 9 سال بیت گئے مگر ان کے سدا بہار گیت آج بھی شائقین موسیقی کی یادوں سے محو نہیں ہوئے۔
ملکہ پکھراج کا شمار پاکستان کی ان گلوکاروں میں ہوتا ہے جن کے گائے ہوئے گیت برصغیر پاک و ہند میں یکساں پسند کیے گئے۔ ملکہ پکھراج کے کچھ گیت تو آج بھی زبان زد عام ہیں جن میں سرفہرست گانا ہے ”ابھی تو میں جوان ہوں”۔
1914 میںجموں میں پیدا ہونے والی ملکہ پکھراج نو سال کی عمرسے ہی گائیکی کی تربیت حاصل کرنے لگی۔ پہلی بار جب مہاراجہ ہری سنگھ کے سامنے گایا تو مہاراجہ نے متاثر ہو کر انہیں دربار کی مغنیہ مقرر کر دیا۔ جہاں نو سال تک ملکہ پکھراج نے اپنی آواز کے سر بکھیرے۔ گائیکی کی جن جہتوں میں انہیں مہارت حاصل تھی ان میں ٹھمری، غزل، گیت اور بھجن شامل ہیں۔
ان کی بیٹی طاہرہ سید نے پاکستان میں اپنی والدہ کی ہی طرح موسیقی میں اپنے فن کو منوایا اور اپنی والدہ کے ساتھ سرکاری ٹی وی چینل کے کئی پروگرامز میں پرفارم کرتی رہیں۔
ملکہ پکھراج منفرد آواز کی مالکہ تھیں، اگرچہ انہوں نے کم گایا لیکن جتنا بھی گایا اس کی تعریف استادان فن نے بھی کی۔ یہی وجہ ہے کہ موسیقی کے حلقوں میں ان کا نام ہمیشہ عزت واحترام سے لیا جاتا ہے۔ انکا 2004 میںانتقال ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *