ملائیشیا میں نوجوان خاندانی منصوبہ بندی کی تعلیم سے محروم رہتے ہیں، اسلامی ملک ہونے کے باعث یہاں کے تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم دینے کی اجازت نہیں۔
ملائیشیاءمیں نوجوانوں کو دی جانے والی جنسی تعلیم میں خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔
پاسر سینی کوالالمپور میں نوجوانوں میں مقبول تفریح گاہ ہے، یہاں موجود بائیس سالہ نُور کھلینڈا ازرین نرسنگ پڑھ رہی ہیں۔
سوال”آپ کو امتناع حمل کے بارے میں کیا معلومات حاصل ہے؟
نُور کھلینڈا ازرین” میں اس بارے میں کھلے عام کس طرح کچھ کہہ سکتی ہوں”۔
ایک اور طالبہ پُتِرِی نُور آسکین اس بارے میں تھوڑا بہت بتارہی ہیں۔
پُتِرِی نُور آسکین “ یہ عمل خواتین کو حاملہ ہونے سے روکتا ہے”۔
نور کھیلینڈامزید اظہار خیال کررہی ہیں۔
نور کھیلینڈا” خواتین کو شادی سے ہٹ کر جنسی سرگرمیوں سے دور رہنا چاہئے”۔
گزشتہ سال سے مقامی این جی اوز کی جانب سے اسکولوں میں بچوں کو جنسی تعلیم کی فراہمی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ سائرہ شمیم ملائیشیاءمیں اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ سے تعلق رکھتی ہیں۔
سائرہ شمیم “ ہمیں بچوں کو معلومات تک رسائی کا حق دینا چاہئے، یہاں تک کہ سات سالہ بچے کو بھی اس بارے میں معلومات ہونا چاہئے۔ سات سالہ بچے کو یہ تعلیم دی جانی چاہئے جس تک اسے ابھی رسائی حاصل نہیں، میرا ماننا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے اقدامات کرنے چاہئے، تاہم اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے”۔
تاہم ملائیشین حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تعلیم نوجوانوں میں بے راہ روی کو فروغ دے گی،انچک مزال، پلاننگ اینڈ پروڈکٹو ہیلتھ بورڈ کے جنرل منیجر ہیں۔
انچک مزال” میرا نہیں خیال کہ نوجوانوں میں اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے، ہم جنسی تعلیم کو نمایاں نہیں کرنا چاہتے، یہی وجہ ہے کہ ہم نوجوانوں کو یہ تعلیم فراہم کرنا نہیں چاہتے”۔
گزشتہ سال نائب وزیر تعلیم پُوَد زَر کَشِی کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں اس حوالے سے کچھ مضامین نصاب کا حصہ بنائے جاسکتے ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملائیشین عوام خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں حقیقی معلومات کی بجائے افواہوں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔سائرہ شمیم اس بارے میں بتارہی ہیں۔
سائرہ “ یہاں افواہوں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہیں کیونکہ لوگوں کو اس بارے میں صحیح معلومات ہی حاصل نہیں، اس خلاءکو افواہوں سے پر کیا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔ اگر آپ جرات مندی سے اس تعلیم کی فراہمی کا مطالبہ کریں تو ہی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو نوجوان عجیب و غریب جوسز پی کر اپنی صحت بگاڑ لیں گے”۔
اگر آپ امتناع حمل کے بارے میں معلومات رکھتے بھی ہیں تو بھی ان ذرائع تک رسائی بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔