Liyari Operation لیا ری آ پریشن

کراچی کے علاقے لیاری میں لاءاینڈ آرڈرکی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے اور اس سے سب سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر ہو رہے ہیں۔لیاری کے70سے زائد مکین اپنے گھروں میں محصور ہیں اوربھوک پیاس سمیت مختلف مسائل کا شکار ہیں،جبکہ دوسری جانب تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکولز بند ہیں اور اسپتالوں میں اسٹاف نہ ہونے کے برابر ہے ، اسکے علاوہ روز مرہ ضروریات کی اشیاءکی عدم فراہمی کے باعث یہاں کے رہائشیوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔موبائل سر وس بند ہونے کے باعث علاقہ مکینوں اور اُنکے رشتے داروں اور دوستوں میں رابطے منقطع ہو گئے ہیں جس سے مکینوں میں خوف و ہراس اور شہر کے دوسرے علاقوں میں مقیم اُنکے رشتے داروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ لیاری میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پولیس نے علاقے میں پانی ، بجلی اور گیس تک بند کر دی ہے، لوگوں کے گھروں میں کھانے کو موجود نہیں ہے اور بیشتر گھروں میں فاقوںکی نوبت آگئی ہے جبکہ کئی جگہوں پر مجبوراً بورنگ کا کھارا پانی پیا جا رہا ہے جس سے علاقے میں پیٹ کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
اس سلسلے میں اہالیان لیاری اور سول سوسائٹی کی جانب سے30اپریل کو احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میںخواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی، جنہوں نے لیاری آپریشن کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومتی عہدیداران کے خلاف نعرے درج تھے۔
30اپریل کو ہی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں نامی گرامی شخصیات نے شرکت کی،نیشنل آرگنائزیشن آف ورکنگ کمیونٹیز سے منسلک فرحت پروین پریس کانفرنس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہتی ہیں:
لیاری کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے اورشہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ نیشنل آرگنائزیشن آف ورکنگ کمیونٹیز سے منسلک فرحت پروین کا کہنا ہے کہ مختلف فلاحی ادارے بھی ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاءپہنچانے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں:
شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں میں شریک مظاہرین کا کہنا ہے کہ لیاری آپریشن کے متاثرین کو کیمپوں میں رکھنے اور خشک راشن کے نام پر خیرات دینے کے بجائے لیاری میں فوری طور پر پولیس کارروائی بند کرائی جائے، اس بارے میں فرحت پروین کہتی ہیں:
لیاری میں گزشتہ کئی روز سے جاری پولیس آپریشن کے باعث متعلقہ علاقوں کے لوگ گھروں میں محصور ہو گئے ہیں جبکہ لیاری کے علاقے سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔دوسری جانب حکومت سندھ کی جانب سے لیاری متاثرین کیلئے 3ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیںلیکن اب تک کوئی بھی خاندان ان کیمپوں میں رہائش کیلئے نہیں آیا ہے، جبکہ بھوک پیاس سے بے حال نقل مکانی کرنے والے لیاری کے مکینوںسے ہمدردی کے ساتھ ساتھ اہالیان کراچی خصوصاً بلوچوں میں لیاری آ پریشن کے خلاف شدید غصہ اور اشتعال پایا جارہاہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *