ُُٓپاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ادریس ایدھی نے ایک پریس بریفنگ کے دوران یہ انکشاف کیا ہے کہ زےادہ تر خواتین گریجویشن کے بعد میڈیکل پریکٹس جاری نہیں رکھتیں جس سے سیٹیں ضائع ہوجاتی ہیں ،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین ڈاکٹر ز کے پریکٹس نہ کرنے کی وجہ سے ہیلتھ ڈلیوری سسٹم میں خلا پیدا ہورہا ہے۔خواتین بہت ذوق و شوق سے میڈیکل کے شعبے کا انتخاب کرتی ہیں،اور پوری محنت اور لگن سے اپنی تعلیم پر توجہ دیتی ہیں،لیکن ایسی کیا وجوہات ہوجاتی ہیں کہ خواتین اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں یا پھر بعد میں بطور ڈاکٹر اپنی پریکٹس جاری نہیں رکھتیں،اس بارے میں بتا رہے ہیں ڈاکٹر ادریس ایدھی،
خواتین کے بطور ڈاکٹر اپنی پریکٹس جاری نہ رکھنے کی وجہ سے ہیلتھ ڈلیوری سسٹم میں بہت بڑا خلاءپیدا ہو رہا ہے،اس خلاءکو کس طرح پر کیا جا سکتا ہے ہے ،بتا رہے ہیں ڈاکٹر ادریس ایدھی،
ڈاکٹر سمرینہ ہاشمی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کی صدر ہیں،ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی میڈیکل پریکٹس کو جاری رکھنے کے لئے حکومت کی طرف سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،
خواتین کی میڈیکل پریکٹس جاری رکھنے میں گھر والوں کا بھی بہت بڑا حصہ بنتا ہے،اس حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن سندھ کی صدر ڈاکٹر سمرینہ ہاشمی کہتی ہیں،
فی زمانہ خواتین کا کسی بھی شعبے میں شمولیت اب ناگزیر ہوچکا ہے،خصوصا طب کے شعبے میں خواتین ڈاکٹروں ،نرسوں وغیرہ کی بہت شدید ضرورت رہتی ہے کیونکہ بعض بیماریاں ایسی ہیں جس کا علاج ایک خاتون ڈاکٹر ہی زیادہ بہتر طور کر سکتی ہیں۔اس لئے اگر خواتین طب کو شعبے کو اپناتی ہیں تونہ صرف گھر والوں کو فراخ دلی سے ان کو اس شعبے میں خدمات سر انجام دینے کی اجازت دینی چاہئے بلکہ حکومتی سطح پر بھی ایسے مﺅثر اقدامات کرنے چاہئیں جس سے خواتین ڈاکٹروں کا مستقبل بھی محفوظ ہو اور صحت کے شعبے میں پیدا ہونے والے خلاءکو بھی پر کیا جاسکے۔