Labour Convention لیبر کنونشن

یکم مئی کے موقع پر کراچی میں ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کی جانب سے خصوصی لیبر کنوینشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد گھریلو سطح پر مصروف عمل خواتین کی جدوجہد کوخراج تحسین پیش کرنا اور ہوم بیسڈ ورکرز کوانکے حقوق سے آگہی فراہم کرنا تھا۔ہوم بیسڈ ویمن ورکرفیڈریشن کی جنرل سیکریٹری زہرہ خان لیبر کنوینشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہتی ہیں:
گھریلو سطح پرمصروف عمل خواتین کی بڑی تعداد نے لیبر کنوینشن میں شرکت کی اور اپنے مسائل اور مطالبات سے آگاہ کیا:
ملکی سطح پرہوم بیسڈ ورکرز کومزدور تسلیم نہیں کیا جاتا، جسکی وجہ سے انھیں سوشل سکیورٹی سمیت دیگر مراعات نہیں دی جاتیںاور نہ ہی قابل ذکر اُجرت دی جاتی ہے۔ لیبر کنوینشن میں حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ مزدوروں کی بنیادی اُجرت میں اضافہ کیا جائے اور اسکے ساتھ ساتھ گھریلو سطح پر مصروف عمل خواتین کو بحیثیت ورکر تمام مراعات اورسہولیات فراہم کی جائیں جو انکا حق ہیں۔زہرہ خان کا کہنا ہے کہ مختلف سطح پر گھریلو کاروبار سے منسلک خواتین کسی بھی ادارے سے رجسٹرڈ نہیں ہیں اس کیلئے ضروری ہے کہ دیگر این جی اوز ان خواتین کو رجسٹرڈ کریں اور اُنکے حقوق کیلئے کوششیں کریں:
ہوم بیسڈ ویمن ورکرزکی نمائندگی کیلئے ٹریڈ یونینز بنائی جانی چاہئیں تاکہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کے مسائل سامنے لائے جا سکیں، دوسری جانب لیبر کنوینشن میںلیاری کی کشیدہ صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی اور بتایا گیا کہ لیاری میں رہائش پذیر مزدوروں کی بہت بڑی تعداد کام نہ ملنے کے باعث فاقوں پر مجبور ہے یا پھر اپنے گھر بار چھوڑ کر شہر کے دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کر چکی ہے ،یہ تمام صورتحال مزدور طبقے کے مسائل میں اضافے کے مترادف ہے:
دنیا بھر میں مزدوروں کو انکے جائز حقوق دیئے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں گھریلو سطح پر مختلف کاروبار سے منسلک خواتین کو ورکر ہی تسلیم نہیں کیا جاتا ، ان مسائل کو قومی سطح پراُجاگر کرنے کیلئے اس نوعیت کے کنوینشن اور سیمینارز کا انعقاد بے حد ضروری ہے تاکہ ہوم بیسڈ ورکرز اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکیں اور ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنے جائز حقوق کیلئے جدو جہد کر سکیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *