ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے چند دن قبل کراچی میں خواتین کے قتل کے مختلف واقعات کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کئے گئے جس کے مطابق جنوری 2012 سے لے کر اگست 2012 کے چھ ماہ کے عرصے کے دوران ٹارگٹ کلنگ ،غیرت کے نام پر،زندہ جلا دینے اور ان جیسے دیگر مختلف واقعات میںتقریبا 107 خواتین قتل کر دی گئیں،اس بارے میں مزید بتاتے ہوئے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چئیرپرسن زہرہ یوسف کہتی ہیں۔
خواتین کے قتل اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے حوالے سے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کس طرح اعداد و شمار کا تعین کرتا ہے،اس بارے میں بتا رہی ہیں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چئیر پرسن زہرہ یوسف۔
پاکستان کے ہر صوبے میں خواتین کا قتل اور اس کے ساتھ ناروا سلوک ایک عام بات ہے،جبکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ،ڈاکہ زنی اور لیاری گینگ وغیرہ جیسے مختلف واقعات میں خواتین کو قتل کر دینے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے،انکی روک تھام کیسے کی جا سکتی ہے ،اس حوالے سے زہرہ یوسف بتاتے ہوئے کہتی ہیں۔
خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ان سنگین واقعات کی روک تھام میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کیا کردار ادا کر رہا ہے ،اس حوالے سے زہرہ یوسف بتاتی ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چئیر پرسن زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ جب تک خواتین کو اپنے حقوق سے آگاہی نہیں ہوگی اور وہ اپنے حق کے لئے آواز نہیں اٹھائینگی تب تک ان واقعات کو روکنا نا ممکن رہے گا۔
خواتین چاہے ملک کے کسی بھی حصے میں قتل ہوں ، چاہے وہ کراچی ہو یا کوئی اور شہر یا علاقہ ،اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،خواتین کو قتل کر دینے کے واقعات میں اضافہ ارباب اختیار کے لئے ایک لمحہءفکریہ ہے،اور حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔