مہدی حسن کی آواز میں مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے اور ان جیسے ان گنت لافانی گیتوں کے خالق خواجہ خورشید 21 مارچ 1912ءکو میانوالی میں پیدا ہوا۔اپنے عہد کے اس عظیم موسیقار کے تخلیقی سفر کا آغاز 1939 میں ریڈیو سے کیا، اور 1941ءمیں اپنی پہلی فلم کڑمائی بمبئی کی موسیقی ترتیب دی۔بمبئی میں اپنے قیام کے دوران انھوں نے 10 فلموں کی موسیقی ترتیب دی، تاہم زیادہ مقبولیت حاصل نہ کرسکے۔
1953ءمیں بمبئی سے لاہور منتقل ہونے کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر اٹھارہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں انتظار، ہیر رانجھا اور کوئل جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔
فلم انتظار کا گانا چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار خواجہ صاحب کی موسیقی میں گلوکارہ نورجہاں کا گایا ہوا پہلا گانا ہے، اسی فلم کے دیگر گیت او جانے والے رے، ٹھہرو ذرا رک جائے، ساون کی گھنگھور گھٹاﺅ یا چھن چھن ناچوں گی، گن گن گاﺅں گی وغیرہ نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔
1959ءمیں ان کی 2 فلموں جھومر اور کوئل نے حقیقی معنوں میں انہیں موسیقی کی دنیا میں امر کردیا۔ جھومر کا گیت چلی رے چلی رے، میں تو دیس پیا کے چلی رے، یا کوئل کے گیتوں رم جھم رم جھم پڑے پھوار، دل کا دیا جلایا میں نے، ساگر روئے، لہریں شور مچائیں یا مہکی فضائیں گاتی ہوائیں سمیت اس فلم کے ہر گیت کو کون بھول سکتا ہے۔
1960ءمیں فلم ایاز کے گیت رقص میں ہے سارا جہاں، فلم گھونگٹ کا گیت کبھی ہم تم بھی آشنا ، فلم حویلی کا گیت میرا بچھڑا بلم گھر آگیا، میری پائل باجے، فلم چنگاری کا گیت کلی کلی منڈلائے بھنورا، ہمراز کا گیت کہاں ہو تم سہلیوں جواب دو، اور ان کی سب سے بڑی سپرہٹ فلم ہیر رانجھا کے تمام گیتوں سمیت سینکڑوں گیت ان کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
خواجہ خورشید انور نے بحیثیت ہدایتکار ہمراز، چنگاری اور گھونگٹ جیسی فلمیں بنائی اور اِن فلموں کی موسیقی بھی ترتیب دی، جبکہ انھوں نے 6 فلموں کی کہانیاں اور اسکرین پلے بھی تحریر کئے، ان ہی فلموں کے وہ پروڈیوسر بھی تھے۔
خواجہ صاحب کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں 1980ءمیں حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔
30 اکتوبر 1984ءکو برصغیر پاک و ہند کا یہ مایہ ناز موسیقار ہم سے جدا ہوا۔آج وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی ترتیب دی ہوئی دھنیں آج بھی موسیقی کے پرستاروں کے دلوں کو گرماتی ہیں۔
