(Kashmiris Rap on Rights) کشمیر میں ریپ میوزک

مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں میں آج کل Rap music بہت مقبولیت اختیار کررہا ہے۔ اس طرز موسیقی میں احتجاج خاص طور پر بہت زیادہ مقبول ہے، اس وقت کشمیر میں ایک درجن سے زائد احتجاجی rappers کام کررہے ہیں۔

یہ وہ نغمہ ہے جو دو سال قبل کشمیری مظاہرین نے احتجاج کے دوران اپنا ترانہ بنایا ہوا تھا۔ اس احتجاج کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں سینکڑوں کشمیری شہید ہوگئے تھے۔ یہ گانا مقامی rapper ایم سی کاش نے تیار کیا تھا۔ انہیں کشمیر کے پہلے احتجاجی rapper ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور وہ انگریزی زبان میں اپنے گیت تیار کرکے مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔وہ اپنا کام خفیہ انداز میں کام کرتے ہیں اور ان کے گانے آن لائن ریلیز کئے جاتے ہیں، اب تک پولیس ایم سی کاش کو تمام تر کوششوں کے باوجود گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان 1947ءسے وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے، اور آج بھی اس وادی میں پانچ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں، جبکہ یہاں کے رہائشی طویل عرصے بعد بھی بھارت سے الحاق کیلئے تیار نہیں۔

کشمیر میں Rap music کا آغاز چند برس قبل شروع ہوا تھا، مگر اب احتجاجی Rap music ہی زیادہ مقبول ہے۔ Haze Kay بیس سال سے زائد عمر کے ایک اور مقبول احتجاجی rapper ہیں۔ انکے نغمہ آزادی پر پولیس نے گزشتہ برس پابندی لگادی تھی، تاہم اسے آن لائن آسانی سے سنا جاسکتا ہے۔Haze Kay کا کہنا ہے کہ انکی موسیقی میں کشمیر کے حقائق کو بیان کیا گیا ہے۔

 (male) Haze Kay “یہاں بہت کچھ ہورہا ہے، آپ کشمیر کے بارے میں ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں روزانہ کس طرح احتجاج ہورہا ہے۔ یہاں لڑکے قابض فوجیوں پر پتھراﺅ اور بہت کچھ کرتے ہیں۔ میری موسیقی ان حریت پسندوں سے متعلق ہے۔ آخر ایک شخص سڑک پر جاکر احتجاج کیوں کرتا ہے؟ آخر کوئی پتھر اٹھا کر اسے حکومتی عہدیدار پر کیوں مارتا ہے؟ میری موسیقی میں ان سوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں، یہ وہ معاملات ہیں جو میڈیا کی آنکھوں سے اوجھل رہتے ہیں، تاہم میں ان مسائل کو آواز دیتا ہوں۔ آپ مجھے اپنا پیغام، اپنے الفاظ اور احساسات دیں، میں انہیں پوری دنیا تک پھیلا دوں گا”۔

یہ احتجاجی rappers اپنی موسیقی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ گزشتہ برس انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے ایک وکیل پرویز امروز وادی میں اجتماعی قبروں کے معاملے کو سامنے لائے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ ان قبروں میں موجود لاشیں ان کشمیریوں کی ہیں جنھیں بھارتی فوجی اٹھا کر لے گئے تھے۔ ریاستی ہیومین رائٹس کمشین نے بھی پرویز امروز کے حقائق کی تصدیق کردی تھی۔ Haze Kay اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔

 (male) Haze Kay “یہ قبریں کہاں سے آئی ہیں؟ ان میں دفن افراد کون ہیں اور انہیں کہاں سے لایا گیا ہے؟ اگر ان قبروں میں بہت زیادہ افراد ہیں تو سوال یہ ہے کہ انہیں کب مار کر ان قبروں میں ڈالا گیا؟ یہ سب کچھ دس سے پندرہ برسوں کے دوران ہوا، مگر کسی کو بھی کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ یہی وہ سب کچھ ہے جس پر میری موسیقی گھومتی ہے۔ اگر کچھ غلط ہورہا ہے تو اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔ لوگوں کو اسکے بارے میں معلوم ہونا چاہئے۔ میں تو بس یہ کہتا ہوں کہ میں یہاں رہتا ہوں، میں اچھا ووٹر ہوں، میں انتخابات میں حصہ لیتا ہوں، مجھے میرے حقوق دو، مجھے انصاف دو، مجھے ایسا مقام دو جہاں میں خود کو محفوظ سمجھوں”۔

اس موقع پر Haze کی ماں نے گفتگو میں دخل دیا۔

انکا کہنا تھا کہ انہیں ڈر ہے کہ انکا بیٹا حکومت پر تنقید کرنے کے باعث مشکل میں نہ پھنس جائے۔ ایسا ماضی میں کئی بار ہوچکا ہے۔ ایک اور rapper، MC Youngblood جن کا اصل نام قاسم حیدر ہے، بھی خوفزدہ ہے۔

 (male) MC Youngblood “میں نے سنا ہے کہ ریکارڈنگ اسٹوڈیوز پر پولیس باقاعدگی سے چھاپے مار رہی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ ایسا میرے ساتھ نہ ہو اور مجھے گرفتار نہ کرلیا جائے۔ مجھے پر PSA Act کے تحت کارروائی ہوئی تو میری پوری زندگی ہی جیل میں گزر جائے گی”۔

پی ایس اے یا پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت پولیس کسی بھی شخص کو مشتبہ قرار دے کر دو سال تک بغیر کسی الزام کے قید رکھ سکتی ہے۔انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق صرف 2010ءمیں ہی بچوں سمیت دو ہزار سے زائد افراد کو اس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس وقت کشمیری جدوجہد میں یہ rappers اہم کردار ادا کررہے ہیں، مگر ہر شخص اس طرز کے احتجاج کا خواہشمند نہیں۔

غیر سیاسی Rap musicبھی وادی میں سر اٹھا رہا ہے۔ اور آئندہ ماہ کشمیر میں پہلا rap مقابلہ ہورہا ہے۔ ہر شخص کو اس کنسرٹ میں آنے کی اجازت ہے تاہم ایک شرط یہ ہے کہ اس میں احتجاجی Rap music کی اجازت نہیں ہوگی۔DJ Aki ایونٹ منیجمنٹ کمپنی Markus Kraft سے تعلق رکھتے ہیں۔

ڈی جے اکی(male) “اگر دیانتداری سے کشمیری rap کے بارے میں بات کی جائے تو یہاں متعدد افراد احتجاجی موسیقی پر زیادہ کام کررہے ہیں۔ جس پر ہم نے اپنے ایونٹ میںانتہائی سختی سے پابندی عائد کی ہے، میں نہیں چاہتا کہ یہ لوگ عوام کو تشدد کی جانب مائل کریں، جس سے ہمارا پورا پروگرام خراب ہوسکتا ہے۔ سادہ سی بات تو یہ ہے کہ ہم فنکار ہیں، ہم سیاستدان نہیں”۔

ارشد برادرز حبیب اور حمزہ بھی اس مقابلے میں شرکت کررہے ہیں۔ سترہ سالہ حمزہ چار برس سے rapping کررہا ہے اور اسکے گانے پنجابی زبان میں ہوتے ہیں۔

حمزہ(male) “گزشتہ چار برسوں سے میں مسلسل پنجابی زبان میں گا رہا ہوں۔ اگر آپ کو rapکی بنیادی تعریف معلوم ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس طرز موسیقی کا مطلب ہے ردھم اور شاعری، اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے خیالات کا اظہار کریں”۔

تاہم حمزہ اور ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں سیاسی نظریات نہیں رکھتے۔

حمزہ(male) “بھارت میری سرزمین ہے اور میں اس سے نفرت نہیں کرسکتا”۔

یہ مقابلہ ہوسکتا ہے کہ مقامی طور پر کچھ حلقوں پر اثرانداز ہو مگر احتجاجی rappers اس سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔یہ MC Youngblood کا نیا گیت ہے، جس میں گمنام قبروں کے معاملے کو اٹھایا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *