Iqbal Bano Death Anniversary اقبا ل با نو کی برسی

تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے جیسے متعدد معروف نغموں کو اپنی آواز دینے والی شہرت یافتہ گلوکارہ اقبال بانو 1935ءکو دہلی میں پیدا ہوئیں۔
اقبال بانو نے دہلی میں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی اور آل انڈیا ریڈیو کے دہلی سٹیشن کے ذریعے اپنے کیرئیر کا آغازکیا۔
1950ءکی دہائی میں اقبال بانو نے پاکستان کی نو زائیدہ فلم انڈسٹری میں ایک پلے بیک سنگر کے طور پر اپنی جگہ بنالی تھی،گمنام، قاتل ، انتقام،سرفروش، عشق لیلیٰ ، اور ناگن میں ان کے پس پردہ گیت اور غزلیں پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک اہم سنگ میل تصور کی جاتی ہیں۔خصوصاً فلم قاتل کیلئے گائی ہوئی انکی غزل تولاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے اور الفت کی نئی منزل کو چلا نے پاکستان کیساتھ ساتھ بھارت میں بھی انتہائی مقبولیت حاصل کی۔لیکن ا±ن کا طبعی رجحان ہلکی پھلکی موسیقی کی بجائے نیم کلاسیکی گلوکاری کی طرف رہا۔
ٹھمری اور دادرے کے ساتھ ساتھ انھوں نے غزل کو بھی اپنے مخصوص نیم کلاسیکی انداز میں گایا۔
فیض احمد فیض کے کلام کو گانے کے حوالے سے مہدی حسن کے بعد سب سے اہم نام اقبال بانو کا ہے۔ ان کی گائی گئی ہوئی فیض کی نظم ’دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں‘ بے حد مقبول ہوئی۔
مگرضیاالحق کے آخری دِنوں میں فیض کی نظم لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے اقبال بانو کا ٹریڈ مارک بن گئی اور ہر محفل میں اسکی فرمائش کی جاتی تھی۔ یہ سلسلہ انکی وفات سے چند برس پہلے تک جاری رہا۔
اردو کے علاوہ انھوں نے فارسی غزلیں بھی گائیں جو کہ ایران اور افغانستان میں بہت مقبول ہوئیں۔ انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے 1990ءمیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔وہ اکیس اپریل 2009ءکو مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔
آج وہ ہم میں نہیں مگر منفرد انداز میں گائی گئی غزلوں کی بناءپر وہ آج بھی اپنے پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *