پاکستان سمیت پوری دنیا میں آج نوجوانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر نوجوانوں کو درپیش مسائل کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو غربت اور بے روزگاری کی دلدل میں پھنسنے سے بھی بچانا ہے۔
رواں برس یہ دن نوجوانوں کی شمولیت سے بہتر دنیا کی تعمیر کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے۔
اقوام متحدہ نے 1998ءمیں پہلی بار عالمی یوم نوجوانان منانے کی منظوری دی تھی جس کے بعد سے اسے ہر سال دنیا بھر میں بھرپور جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔
تاہم عالمی سطح پر نہ تو نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح کم ہو سکی اور نہ ہی نوجوانوں کو غربت سے بچایا جا سکا جس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کا ہر چوتھا نوجوان غربت کا شکار ہے اور ہر پانچواں روزگار سے محروم ہے۔
عالمی سطح پر 2007ءسے 2012ءکے دوران نوجوانوں کی بے روزگاری میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔
2007ءمیں 7 کروڑ 10 لاکھ نوجوان بے روزگار تھے اور 2012ءمیں یہ تعداد بڑھ کر 7 کروڑ 50 لاکھ ہو گئی۔
دنیا بھر کی آبادی کا چھٹاحصہ جبکہ پاکستان میں کل آبادی کا نصف نوجوانوں پر مشتمل ہے ،ہمارے ہاں آبادی میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے یعنی 15سے 30 سال کے عمر کی تعداد40 فیصد سے زائد ہے۔
ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کے صرف 9 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں جبکہ عالمی اداروں کے مطابق یہ شرح 16 فیصد ہے۔ ملکی اداروں کے مطابق ہر 10 واں پاکستانی نوجوان بے روزگار ہے جبکہ عالمی اداروں کے مطابق ہر چھٹا پاکستانی نوجوان روزگار سے محروم ہے۔