International Mothers’ day ”ماﺅں“ کا عالمی دن

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ”ماﺅں“ کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا جارہا ہے، جس کا مقصد محبت کے خالص ترین رنگ لئے ماں کے مقدس رشتے کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرنا اور ماں کیلئے عقیدت، شکر گزاری اور محبت کے جذبات کو فروغ دینا تھا۔امریکا میں یہ دن تقریباً ایک صدی سے منایا جارہاہے۔ ماوں کا د ن منانے کا آغاز ایک امریکی خاتون اینا ہاروس کی کوشش کا نتیجہ ہے۔اینا چاہتی تھیں کہ اس دن کو ایک مقدس دن کے طورپر سمجھا اور منایا جائے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں 8 مئی 1914 ءکو امریکا کے صدر ووڈرو ولسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو سرکاری طورپر ماوں کا دن قرار دیا۔
آج مئی کا دوسرا اتوار بہت سے ملکوں میں ماوں کے دن کے طورپر منایا جارہا ہے۔یہ دن وہ موقع ہوتا ہے جب لوگ اپنی ماوں کے لیے اپنی محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہیں۔ اس دن لوگ اپنی ماوں کو یہ احساس دلاسکتے ہیں کہ وہ ان کے لیے ہمیشہ اہم تھیں اور رہیں گی اور یہ کہ وہ ان سے ہمیشہ محبت کرتے رہیں گے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں ماوں کادن منایا جاتا ہے لیکن یہ دن مختلف ملکوں میں مختلف مہینوں اور تاریخوں پر ہوتا ہے۔تاہم کچھ ملک مثلا ڈنمارک، فن لینڈ، اٹلی ، ترکی ، آسٹریلیا اور بلجیم میں بھی یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی یہ دن ہرسال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے جبکہ افغانستان میں یہ دن 8 مارچ ، نیپال میں 24 اپریل اور ایران میں اسلامی مہینے جمادی الثانی کی 20 تاریخ کو منایا جاتا ہے۔
آج کل ماو¿ں کے دن کو مناتے ہوئے پھول پہننے کا رجحان دیکھنے میں آتا ہے۔ مختلف رنگوں کے پھولوں کے مختلف معنیٰ لیے جاتے ہیں۔ سفید پھول وہ لوگ پہنتے ہیں جن کی مائیں انتقال کرچکی ہوں۔سرخ یا گلابی پھول اس بات کی علامت ہے کہ پہننے والے کی ماں زندہ ہے۔ اس دن بچے اپنی ماو¿ں کو خوش کرنے کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں۔ وہ اپنی ماوں کو تحائف بھی پیش کرتے ہیں جو روائتی پھولوں سے لے کر کارڈ اور قیمتی چیزوں تک محیط ہوتے ہیں۔پاکستان میں بھی اِس دِن کی اہمیت اب عام ہونے لگی ہے اور خصوصی کارڈز، پھولوں کے گلدستے اور دیگر تحائف اس دن خصوصی طور پر ماﺅں کو دیئے جاتے ہیں۔ماﺅںکے بارے میںکچھ لوگوںنے اپنی عقیدت کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔
تاہم پاکستان میں اس دن کے حوالے سے لوگ دوطبقوں میں تقسیم نظرآتے ہیں، ایک وہ جو اس دن کو ماﺅں کی عظمت کیلئے اہم قراردیتے ہیں، جبکہ دوسرے طبقے کا کہنا ہے کہ ماﺅں سے محبت کیلئے ایک دن مختص کرنے کا کیا جواز، جبکہ ماںجیسی عظیم ہستی ہمیشہ محبت وتکریم کے لائق ہے۔
لیکن اس دن کی اہمیت کیساتھ ایک اور المیہ بھی قابل توجہ ہے۔مغربی ممالک میں زیادہ تربوڑھے والدین کو انکے بچے
گھروں سے نکال کر اولڈ ہومز میں منتقل کردیتے ہیں، یہی رجحان اب پاکستان میں بھی نظرآنے لگا ہے۔اماں فاطمہ اولاد کی زیادتی کی شکار ایک ایسی ہی ماںہیں۔
پاکستانی معاشرے میں اب سے چند برس پہلے تک اولڈ ہومز کا کوئی وجود نہیں تھا، شاید اس لیے کہ ماں اور باپ کے لیے گھروں میں بھی بہت جگہ تھی اور دلوں میں بھی۔ لیکن وقت بدل گیا ہے اور اب پاکستان میں اولڈ ہومز بھی ہیں اور ان میں رہنے والے بزرگ بھی۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں ایدھی اور دیگرفلاحی اداروںکے اولڈ ہومزقائم ہیں۔کراچی کے ایک اولڈ ہوم میں مقیم زرمینہ اپنے بیٹے کی بے حسی کا نوحہ رو رہی ہےں۔
دوسال قبل جاری ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق صرف کراچی میں ہرروز تقریباً 50بزرگ افراد کو ایدھی سینٹر منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ملک بھرمیں یہ شرح 50فیصد بڑھ چکی ہے۔اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے رواں سال جنوری میں ملک بھرمیں بزرگ شہریوں کیلئے اولڈ ہومز قائم کرنیکا اعلان کیا تھا،جسکے پائلٹ پراجیکٹ کے طورپر کئی شہروں میں پانچ اولڈ ہومز قائم کئے جانے ہیں، جبکہ ایدھی ہومز کے ترجمان انورقاضی کے مطابق کراچی،اسلام آباد، لاہور، ملتان اور پشاورمیں بزرگوں کے قیام کے مراکز قائم ہیں، جہاں اولاد کے ہاتھوں دکھ اٹھانیوالی مائیں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

ان اولڈہومز میں مقیم مائیں ہمیشہ منتظررہتی ہیں کہ شاید انکے بچے انہیں واپس لے جائیں۔مہرالنساءنامی خاتون بھی ایک اولڈہوم میں بچوں کے انتظارمیں زندگی کے دن گزاررہی ہیں۔
ماﺅں کے عالمی دن کے موقع پر ہمیںیہ یادرکھنا چاہئے کہ والدین ایک سائے کی طرح ہیں جن کی ٹھنڈک کا احساس ہمیں اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ سایہ سر پر موجود رہتا ہے، جونہی یہ سایہ ±ٹھ جاتا ہے تب پتہ چلتاہے کہ ہم کیا کھو بیٹھے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *