(India’s Sexual Offences Bill Stirs Controversy) بھارتی جنسی تشدد بل پر تنازعا ت

 

(India’s Sexual Offences Bill Stirs Controversy) بھارتی جنسی تشدد بل پر تنازعا ت

بھارت میں بچوں کو جنسی تشدد سے بچانے کیلئے ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت بچوں کے خلاف جنسی جرائم کرنے والے ملزمان کے مقدمات خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں گے، تاہم اس قانون پر کچھ اعتراضات بھی سامنے آرہے ہیں۔

نعروں اور تالیوں کے دوران وزیر مملکت برائے امور خواتین و اطفال Krishna Tirath نے Protection of Children from Sexual Offences Bill پارلیمنٹ میں پیش کیا، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ کرشنا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ یہ ایک سخت قانون ہے اور اس سے بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی۔

female) Krishna Tirath) “یہ ایک تاریخ ساز بل ہے، جس کا مسودہ ہم نے اس مسئلے کے تمام پہلوﺅں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی احتیاط سے مرتب کیا ہے۔ ہم نے سخت ترین سزاﺅں کیلئے سول سوسائٹی کے گروپس، این جی اوز، پولیس، والدین اور بچوں سے مشاورت کی، تاکہ کوئی بھی شخص یہ مذموم جرم کرنے سے پہلے اس کے نتیجے میں ملنے والی سزاﺅں کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجائے۔ ہمارا مقصد بچوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر بہترین نشوونما کیلئے محفوظ اور بہترین ماحول فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ مستقبل میں قوم کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں”۔

بھارت میں بچوں پر جنسی تشدد کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک حالیہ حکومتی رپورٹ کے مطابق دنیا میں بچوں پر جنسی تشدد کے حوالے سے بھارت سرفہرست ملک ہے۔ Smriti Kaul ایک این جی او Koshish کیلئے کام کرتی ہیں۔

female) Smriti Kaul)“ہر 155 ویں منٹ میں سولہ سال سے کم عمر کے بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اسی طرح ہر 10گھنٹے میں دس سال سے کم عمر کا ایک بچہ جنسی تشدد کا نشانہ بنتا ہے۔ دیگر اعدادوشمار کے مطابق 53.2 فیصد بچوں کو کم از کم ایک بار جنسی تشدد کا سامنا ہوتا ہے، ان میں سے 21.9 فیصد کو سنگین جنسی مظالم کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ چھ فیصد پر جنسی حملہ ہوتا ہے۔ ان بچوں پر یہ ظلم کرنے والے 50 فیصد ملزم متاثرہ بچے کے جاننے والوں میں شامل ہوتے ہیں”۔

سماجی کارکن جیسے Smriti Kaul اس نئے قانون سے خوش ہیں۔

 female) Smriti Kaul) “اس سے لوگوں میںبچوں پر ہونے والے جنسی تشدد کی وضاحت ہوگی، اس قانون کے تحت ان جرائم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا کسی غیر فرد کی جانب سے کیا جانے والا حملہ، دوسرا کسی ایسے شخص کا بچوں پر جنسی حملہ کرنا جسے اس کے تحفظ کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہو، ان میں طبی عملہ، اساتذہ، والدین یا رشتے دار وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ ان کے بعد جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جرائم تیسرے نمبر پر ہیں، جبکہ بچوں کی عریاں تصاویر بنانا وغیرہ بھی اس قانون میں جرم قرار دیا گیا ہے۔ اگر اس بل پر عملدرآمد ہوا تو یہ ایک مثبت آغاز ثابت ہوگا”۔

اس قانون کے تحت خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو بچوں پر جنسی تشدد کے حملوں کے مقدمات کا جلد فیصلہ کریں گی۔اس قانون کے تحت ملزم پر جرم ثابت ہوگیا تو اسے عمر قید کی سزا کا سامنا ہوگا، تاہم اس قانون میں باہمی رضا مندی سے شادی کرنے اور جسمانی تعلق قائم کرنے کی عمر بھی سولہ سال سے بڑھا کر اٹھارہ سال کردی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد اگر اپنی مرضی سے کسی سے جسمانی تعلق قائم کرتے ہیں تو وہ بھی جنسی زیادتی کے زمرے میں آئے گا۔ متعدد حلقوں کی جانب سے اس چیز پر کافی تنقید دیکھنے میں آرہی ہے۔Amita Mullah Wattal نئی دہلی کے ایک نجی اسکول Spring Dales کی پرنسپل ہیں۔

 female) Amita Mullah Wattal) “ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے میں نے دیکھا ہے کہ بلوغت کی عمر تبدیل ہوئی ہے اور بچوں کا شعوربہت جلد بیدار ہونے لگا ہے۔ موجودہ دور میں 14 سال کی عمر میں بچے ماضی کے سترہ سال کے نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کے برابر آگئے ہیں۔ موجودہ عہد میں بچوں کو ہر قسم کی معلومات تک رسائی حاصل ہے، جس کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر پہلے ہی بالغ ہوجاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں تبدیلی آرہی ہے، جس کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ہم مادر پدر قسم کی آزادی دیدیں، مگر میرا خیال ہے کہ ہمیں اس معاملے کو انتہائی احتیاط سے دیکھنا ہوگا۔ ہمیں جاننا ہوگا کہ آج کے بچے کس طرح سوچتے ہیں”۔

Sanjay Hegde سنیئر وکیل ہیں، وہ اس قانون کو ایک ایسا علاج قرار دیتے ہیں جو مرض سے بھی زیادہ بدتر ہے۔

 male) Sanjay Hegde) “ہمارے ملک میں نوجوانوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، ہمارے بچے اب بہت جلد بالغ ہورہے ہیں، وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہر قسم کے تجربات کرنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں، اور اب اس قانون کے تحت ہم انہیں کسی بھی تجربے کے بعد مجرم قرار دیدیں گے”۔

انکا کہنا ہے کہ اس قانون کو پولیس کی جانب سے نوجوان افراد کو بلیک میل اور ہراساں کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ اس قانون پر عملدرآمد صدر کے دستخطوں کے بعد ہوگا۔ بل کے مخالفین عمر کی حد بڑھانے کی شق کو صدر کے دستخطوں سے پہلے ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، تاہم National Commission for the Protection of Child Rights کی چیئرپرسن شانتا سنہا اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔

شانتا سنہا(female) “اس قانون کا طویل عرصے سے انتظار کیا جارہا ہے، اور اس کی منظوری میں متعدد سال لگے ہیں۔ تو میرے خیال میں پہلے اس پر عملدرآمد ہونا چاہئے اور پھر اس کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے نظرثانی کی جانی چاہئے۔ اس بل پر زیادہ عملدرآمد ہمارے کمیشن نے کرانا ہے، جو اس میں موجود کمزوریوں کی بھی نشاندہی کرے گا، جس کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے ان کو تبدیل کردیا جائے گا”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *