India’s Rampant Sand Mining – بھارتی سینڈ مائننگ

بھارت میں سینڈ مائننگ ایک اہم ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے، سپریم کورٹ نے اس پر پابندی عائد کی ہے تاہم طاقتور گروپس اس حکم کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہیں، ریاست کیرالہ میں ایک خاتون اس طاقتور مافیا کیخلاف تن و تنہا لڑ رہی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

نئی دہلی کی جنتر منتر اسٹریٹ میں ایک چھوٹے سے خیمے میں ایک تیس سالہ خاتون اپنے روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کی کوشش کررہی ہے، اس کی ایک بیٹی ماں کے قریب بیٹھی ہے، جبکہ ایک قریبی بستر پر سو رہی ہے۔یہ جازیرا واڈکان ہیں، جو کیرالہ سے تعلق رکھتی ہیں۔

گزشتہ دو ماہ سے وہ اپنی ریاست میں سینڈ مائننگ پر پابندی لگوانے کیلئے نئی دہلی میں دھرنا دیئے بیٹھی ہیں۔
جازیرا واڈکان “وہ ہماری زندگیاں تباہ کررہے ہیں، وہ ہمارے ان علاقوں کو ختم کررہے ہیں جہاں ہم پلے بڑھے، ہمارے ساحل غائب ہوتے جارہے ہیں، ہم اپنی زمینوں سے محروم ہورہے ہیں، اگر اس کام کو فوری طور پر روکا نہ گیا تو پینے کے پانی کے ذرائع اور ہمارا مستقبل شدید خطرے کی زد میں آجائے گا”۔
انھوں نے تین سال قبل اپنے آبائی قصبے سے اس جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔
جازیرا “میں نے معلومات حاصل کی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ کام غیرقانونی ہے، میں نے پولیس، ضلعی کلکٹر اور اعلیٰ عہدیداران سے رجوع کیا، انھوں نے مجھے یقین دلایا کہ مناسب اقدامات کئے جائیں گے، مگر کچھ بھی نہیں ہوا، اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو بہت بڑا مافیا ہے، سینڈ مائننگ پوری ریاست میں جاری ہے اور پولیس، حکومتی افسران اور سیاستدان سب اس میں ملوث ہیں، اس سب کے بعد میں نے خود اس مافیا کو سب کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا”۔

سینڈ مائننگ دیگر بھارتی ریاستوں میں بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، مگر کیرالہ میں یہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ریشمی بھاسٹیرایک سماجی کارکن ہیں۔
ریشمی بھاسٹیر”کیرالہ کے دو دریا تو لگ بھگ تباہ ہوچکے ہیں، جن میں یا تو پانی نہیں رہا اور بہت زیادہ کم ہوچکا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے قریب گہرے گڑھے کھود کر ریت نکالی جارہی ہے، جس سے دریاﺅں میں پانی کی آمد کا نظام متاثر ہوا ہے، اسی نظام کے تحت پورے خطے کو پانی ملتا ہے، میں کہنا چاہتی ہوں کہ ایسا کیرالہ کے تمام دریاﺅں میں ہورہا ہے اور اس سے ہماری زرعی سرگرمیاں بھی انتہائی متاثر ہوئی ہیں”۔

کیرالہ میں حالیہ برسوں کے دوران تعمیراتی صنعت کو بہت زیادہ ترقی ملی ہے، تعمیراتی میٹریل کی بہت زیادہ مانگ خصوصاً ریت کی طلب کے باعث یہ صنعت دریاﺅں اور سمندروں کی ریت بڑے مقدار پر نکالنے کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔ بھارت میں ساحلوں اور دریاﺅں کے تحفظ کے قوانین تو موجود ہیں مگر ریشمی کا کہنا ہے کہ اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔

ریشمی “یہ مافیا مقامی انتظامیہ اور پولیس پر بہت زیادہ اثر رکھتا ہے، ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور سیلز ٹیکس کا محکمہ بھی اس میں ملوث ہے، یہاں تک کہ سیاستدان اور مذہبی گروپس بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں، ہر ایک کا اپنا شیئر ہے”۔

یہ مائننگ گروپس مقامی باسیوں کو بھرتی کرکے ان کے ذریعے کام کرتے ہیں، اب یہ متعدد افراد کیلئے روزگار کا اہم ترین ذریعہ بن چکا ہے اور اس کام کے خلاف کسی بھی رکاوٹ کو اپنے روزگار پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ جازیرانے جب احتجاج شروع کیا تو انہیں سب سے پہلے اپنے قریبی لوگوں سے ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

جازیرا”پوری برادری بہت زیادہ مشتعل ہوگئی تھی، خواتین میرے احتجاج کے دوران آکر مجھے تنگ کرتی تھیں، وہ کہتی تھیں کہ میں گلیوں میں کیا کررہی ہوں؟ کیا ایک مسلم خاتون کیلئے گلیوں میں اس طرح نکلنا درست ہے؟ کیا تمہاری شرم و حیا ختم ہوچکی ہے؟”

مقامی حکومت بھی جازیراکے مسلسل احتجاج سے بہت پریشان ہے، ایڈور پرا کاش ریاستی حکومت کے ایک وزیر ہیں۔
ایڈور پرا کاش”وہ اپنی حد سے تجاوز کررہی ہے، ہم نے اس کی شکایت پر ایکشن لیا، ہم نے متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلب کی، جس کے ملنے کے بعد ہم نے ضروری اقدامات کئے، مگر اب وہ جو کررہی ہے وہ غیرضروری ہے اور کچھ سیاسی گروپس اس کی حمایت کررہے ہیں”۔

جازیرااب اپنے احتجاج کو نئی دہلی تک لے آئی ہیں، اور اس کے باعث سینڈ مائننگ کا مسئلہ دوبارہ اجاگر ہوا ہے سو مان دہلی یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

سو مان”یہ ایک ماحولیاتی مسئلہ ہے، جس کے پورے ملک پر اثرات مرتب ہورہے ہیں، جازیرابہت بہادر خاتون ہیں جو اس کے خلاف جدوجہد کررہی ہیں، میرے خیال میں تو یہ پورے معاشرے کا فرض ہے کہ وہ اس مسئلے کے خلاف جازیراکی لڑائی میں شامل ہو”۔

مگر متعدد افراد کا کہنا ہے کہ صرف قانونی اقدامات سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا، سوناندن، سینٹر فار دی اسٹڈی آف ڈیولیپہمنٹ سو سائٹیز سے تعلق رکھتے ہیں۔

“سوناندن مختلف گروپس کی جانب سے گھروں کی تعمیر کیلئے متبادل میٹریل کو تیار کرنے کی متعدد کوششیں کی جاچکی ہیں، اس سلسلے کو فروغ دیا جانا چاہئے، مگر یہاں حال تو یہ ہے کہ حکومت اپنی عمارات پر بھی کنکریٹ کا بے تحاشہ استعمال کرتی ہے، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ متبادل میٹریل کے حوالے سے شعور موجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تحقیق وغیرہ کرائی جارہی ہے”۔