بھارت میں آئندہ برس شیڈول انتخابات کیلئے الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں میں ایک نیا بٹن شامل کیا جارہا ہے جس کے زریعے ووٹر کسی کو بھی ووٹ نہ دینے کا آپشن چن سکیں گے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے حال ہی میں تاریخ ساز فیصلہ سنایا۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سپریم کورٹ نے ایک این جی او پیپلز یونین فار سول لبریٹز کی درخواست پر منفی ووٹنگ کا تاریخ ساز فیصلہ سنایا۔ وکیل سنجے پاریکھ نے عدالت میں اس این جی او کی وکالت کی۔
پاریکھ”سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ہم ووٹ دینے اور نہ دینے کے حق کے درمیان تفریق نہیں کرسکتے، ان دونوں کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ مثبت کی طرح منفی ووٹ بھی جمہوریت کی عکاسی کرتا ہے، اس کے ذریعے آپ سیاستدانوں کو پیغام دیتے ہیں کہ آپ ایسے افراد نہیں چاہتے جو دولت اور دھونس سے منتخب ہوجاتے ہیں”۔
عدالت نے اپنے حکم میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں میں ایک اضافی بٹن لگایا جائے، اس طرح جو ووٹر کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دینا چاہے وہ کسی کو بھی ووٹ دینے کا آپشن چن لے۔ کمیشن نے ماضی میں کئی بار اس بٹن کی تجویز پیش کی مگر حکومت نے اس کی منظوری نہیں دی، چیف الیکشن کمشنر ایس وی سامپاتھ کا ماننا ہے کہ عدالتی فیصلے سے انتخابی عمل زیادہ شفاف ہوسکے گا۔
سامپاتھ”جمہوریت میں شفافیت لانے کیلئے ابھی کافی کام کرنا باقی ہے”۔
اسی طرح کا مطالبہ کچھ برس قبل انسداد بدعنوانی کیلئے سرگرم رہنماءانا ہزارے نے بھی کیا تھا، تاہم ان کے سابق ساتھی آر وند ابھی صرف آدھی جنگ جیتی جاسکی ہے۔
آروند”اس سے ملکی سیاسی نظام کو صاف کرنے میں مدد ملے گی، تاہم ابھی اگر عوامی اکثریت نے منفی ووٹنگ کی تو بھی انتخابات منسوخ نہیں ہوں گے، یعنی ابھی یہ جنگ ختم نہیں ہوئی۔ اگلا قدم، بامقصد مسترد کرنے کے حق کا حصول ہوگا، اس سے ہی حلقے میں دوبارہ انتخاب کی راہ ہموار ہوسکے گی”۔
بی جے پی نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے مگر کچھ تحفظات ظاہر کیا ہے، مناکشی لیکھی اس جماعت کی ترجمان ہیں۔
مناکشی”اس سے سیاسی جماعتوں پر دباﺅ بڑھے گا کہ وہ شفاف شخصیت رکھنے والے افراد کو انتخابات میں کھڑا کریں جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس سے سیاسی مقاصد بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں، لہذا ہمیں اس منفی ووٹنگ کے مثبت و منفی پہلوﺅں کا جائزہ لینا چاہئے”۔
تاہم حکمران جماعت کانگریس فکرمند ہے، شکترام نیک اس کے رہنماءہیں۔
نیک”یہ تو بالکل ایسا ہے کہ جیسا انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کردیا جائے، اور عدالتی فیصلے سے اس خیال کو تقویت پہنچائی گئی ہے، مگر یہ پالیسی کیا ہے؟ آخر آپ لوگوں کی انتخابی بائیکاٹ کیلئے حوصلہ افزائی کیسے کرسکتے ہیں؟”
الیکشن کمیشن آئندہ برس شیڈول انتخابات میں منفی ووٹنگ کے بٹن کی موجودگی کو یقینی بنائے گا، سنیئر صحافی ویپل مڈگل اس حق کو استعمال کرنے کیلئے بے تاب ہیں۔
ویپل”مسترد کرنے کا حق درست سمت میں قدم ہے، اس سے نظام کو ہلایا جاسکے گا اور ہمیں اسی کی ضرورت تھی”۔
مگر تجزیہ کار جیسے ہندوستان ٹائمز کے کالم نگار پنکج ووہراکا کہنا ہے کہ عوام ابھی اس کیلئے تیار نہیں۔
پنکج”لوگ ابھی تک ذات اور برادری کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ مسترد کئے جانے کے حق سے کوئی بڑا فرق آسکے گا، ایہ سننے میں تو اچھا لگتا ہے مگر یہ صرف جدید معاشرے میں ہی کامیاب ہوسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں یہ صرف قانونی کتابوں میں ہی رہ سکتا ہے، اس سے سیاسی عمل یا ووٹنگ کا رجحان متاثر نہیں ہوگا”۔