دنیا میں سب سے زیادہ کم عمر ورکرز یعنی بچے بھارت میں موجود ہیں،یہ تعداد چھ کروڑ ہے، جو اسکول جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ بھارتی آئین کے تحت چودہ سال سے کم عمر بچوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں، مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ایسے ہی ایک چار سالہ بچے کے بارے میں جانتے ہیں
23 سالہ مدھو دیوی ریاست راجھستان کے شہر جے پور میں چھوٹے چھوٹے گڑھے کھود رہی ہیں، اسکے بعد مدھو ان گڑھوں میں لمبے بانس کھڑے کرکے رسیوں سے باندھ رہی ہیں۔ یہاں دراصل وہ ایک اسٹیج کھڑا کررہی ہیں جہاں ان کا چار سالہ بیٹا ارجن رام اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا۔
ارجن نے لڑکیوں کا لباس پہن رکھا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکے۔ارجن روزانہ ان گلیوں میں جمناسٹک کے کرتب دکھاتا ہے، اپنے خاندان کا واحد کفیل ہونے کے باعث وہ یہ محنت کرنے پر مجبور ہے۔ اس کے والد کچھ برس قبل منشیات کے استعمال کے باعث چل بسے تھے۔ ارجن کی آمدنی سے اس کے نو رکنی خاندان کا پیٹ بھرتا ہے۔ مدھو کا کہنا ہے کہ ان کی بقاءارجن کے کام پر ٹکی ہوئی ہے۔
مدھو(female) “میرا بچہ اگر رقم کما رہا ہے تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ جب میں چھوٹی تھی تو میں بھی اسی طرح شاہراﺅں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتی تھی۔ میرے شوہر بھی تنی ہوئی رسی پر رقص کرکے لوگوں کو محظوظ کرتے تھے۔ میرے والدین بھی یہی کام کرتے رہے ہیں۔ ہمیں ملازمتیں دستیاب نہیں، اور ہمارے پاس آمدنی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں، اس لئے ہم اپنی زندگیوں کی بقاءکیلئے یہ کام کرتے ہیں”۔
گزشتہ برس بھارتی سپریم کورٹ نے اس طرح کے سفری سرکسوں میں بچوں کے کام پر پابندی لگادی تھی۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ حکومت اس طرح کے سرکسوں پر چھاپے مار کر بچوں کو کام سے روکے، تاہم اس حکم میں ارجن اور ان کے خاندان جیسے فنکاروں کے بارے میں کوئی ذکر نہیں۔ ارجن نے ڈھائی سال کی عمر میں جمناسٹک سیکھنا شروع کیا تھا۔
ارجن(male) “میرے والد نے مجھے یہ فن سیکھایا، میں تنی ہوئی رسی پر چل سکتا ہوں، اور ایک پہیے والی سائیکل چلاسکتا ہوں۔ میں تنی ہوئی رسی پر توازن برقرار رکھنے کے ساتھ رقص بھی کرسکتا ہوں۔ میں اسکول نہیں جاتا کیونکہ مجھے اپنے خاندان کیلئے رقم کمانا ہوتی ہے، تاہم میں آگے جاکر ضرور تعلیم حاصل کروں گا”۔
ارجن اپنی ماں اور خالہ کے ہمراہ روزانہ شہر میں بیس کلومیٹر سفر کرتا ہے اور دس سے بارہ شوز کرتا ہے۔چوبیس سالہ کانتا ارجن کی خالہ ہیں۔ وہ ان شوز کے دوران ریکارڈر میں موسیقی بجاتی ہیں اور شائقین سے رقم جمع کرتی ہیں۔ کانتا کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہزار کلومیٹر دور واقع علاقےBilaspur میں اپنا گھر چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں یہاں آئی ہیں۔
کانتا(female)“ہم ایک چھوٹے سے گاﺅں میں رہتے ہیں، ہم تعلیم یافتہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمیں یہاں کوئی ملازمت نہیں مل سکتی۔ اگر ہم تعلیم یافتہ نہ ہو تو پھر کس طرح ہمارے بچے پڑھ سکتے ہیں؟ یہ بچہ روزانہ دو سے تین سو روپے کما کر اپنے پورے خاندان کا پیٹ بھرتا ہے”۔
ان شوز میں موسیقی ایک پرانے ٹیپ ریکارڈ سے بجایا جاتا ہے، اس وقت ایک مقبول گانا بج رہا ہے، جس کے ساتھ ہی ارجن تنی ہوئی رسی پر کھڑا ہوگیا ہے۔ وہ اس وقت زمین سے دو میٹر بلندی پر ہاتھوں میں توازن کیلئے بانس پکڑے ننگے پاﺅں رسی پر چل رہا ہے۔
اس کے بعد اس نے ایک پہیے کی سائیکل رسی پر چلائی، لوگ اس کی صلاحیتوں پر دنگ کھڑے ہیں۔ یہ شو جے پور مارکیٹ کے قریب ہورہا تھا اور لوگ اپنی دکانوں اور گھروں کے قریب سے اسے دیکھ رہے تھے۔ مقامی رہائشی جیسے کیلاش سنگھ تماشائیوں میں شامل ہیں، تاہم وہ اس شو سے خوش نظر نہیں آتے۔
کیلاش(male) “آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا صرف ہمارے ہی ملک میں ہوتا ہے۔ کیا آپ اتنے چھوٹے بچے کو اسکول نہ بھیجنے اور بھیک مانگ کر رقم کمانے کو ٹھیک سمجھتے ہیں؟ ٹریفک جام ہوگیا ہے مگر پولیس کو کوئی پروا نہیں۔ میرے خیال میں تو بچے کو اسکول بھیجا جانا چاہئے یا اسے کسی شیلٹر ہاﺅس میں رکھا جانا چاہئے۔ چائلڈ لیبر ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے”۔
یہ ایک پرانا ہندی گانا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر تم غریب کو ایک پیسہ دو گے تو خدا تم کو لاکھوں روپے دے گا۔ اس میوزک کے ساتھ مدھو اور ارجن ڈبے میں تماشائیوں سے رقم جمع کررہے ہیں۔
اس خاندان نے اس شو سے پچاس روپے کمالئے ہیں۔ارجن دوسرے شو سے قبل آرام کررہا ہے۔
ارجن(male) “میں بہت جلد اپنے آبائی گاﺅں Bilaspur جاﺅں گا۔ میرے دادا اور دادی وہاں مقیم ہیں۔ میرا دوست Samaru بھی وہاں موجود ہے، وہ بھی اس طرح کے شوز کرتا ہے۔میں پہلے کچھ رقم کمانا چاہتا ہوں، جس کے بعد میں اسکول جانے کے بارے میں سوچوں گا”۔