ایک بھارتی عدالت نے ایک لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے معروف مذہبی رہنماءکی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے، 75 سالہ اسارام باپو کی گرفتاری نے ہندو گروپس کو تقسیم کردیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہندو مذہبی رہنماءگرو اسارام باپق کے ہزاروں حامی نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے پاس دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، وہ اپنے رہنماءکی فوری رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اٹھائیس سالہ دھرم راج بھی مطاہرین میں شامل ہیں۔
راج”یہ ان کی توہین ہے، وہ عظیم سادھو ہیں، وہ گزشتہ پچاس برس سے لاکھوں افراد کو بھگوان کی تعلیمات سیکھا رہے ہیں، اور اب ان پر ایسے گھناﺅنے جرم کا الزام عائد کردیا گیا ہے، آخر وہ ایسا کیسے کرسکتے ہیں جبکہ وہ برسوں سے اس کی مخالفت کرتے آرہے ہیں؟ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں”۔
تاہم گرو کی درخواست ضمانت حال ہی میں مسترد کردی گئی اور وہ تاحال پولیس کی حراست میں ہیں، ان پر ایک سولہ سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے، جو راجھستان میں ان کی تنطیم کے زیرتحت چلنے والے اسکول میں زیرتعلیم تھی۔ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی حالت ابھی بھی ٹھیک نہیں۔
متاثرہ لڑکی کا والد”وہ میری بیٹی کو ایک کمرے میں لے گیا اور ہمیں باہر اتنطار کرنے کا کہا، پھر اس کے بعد وہ اندر داخل ہوا اور میری بیٹی کو گھسیٹ کر کمرے میں موجود دوسرے دروازے کی جانب گھسیٹنے لگا، وہاں بالکل اندھیرا تھا اس لئے ہمیں کچھ نظر نہیں آیا، کچھ دیر بعد جب میں اپنی بیٹی سے ملا تو وہ رو رہی تھی، ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا، مگر اس نے کچھ بھی نہیں بتایا، مگر جب میں نے اصرار کیا تو وہ کہنے لگی گھر واپس چلیں یہاں کوئی سادھو نہیں بلکہ یہ سب ڈھونگ ہے۔ گھر پہنچنے کے بعد اس نے سب واقعہ سنایا، اسے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس نے آواز نکالی یا کسی کو کچھ بتایا تو مسلح افراد باہر موجود اس کے والدین کو قتل کردیں گے”۔
لڑکی کے والدین اسارامکے عقیدت مندوں میں شامل تھے مگر اس واقعے نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔
متاثرہ لڑکی کا والد”ہم آنکھیں بند کرکے اس کے پیچھے چل رہے تھے، ہم میڈیا سے نفرت کرتے تھے کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ میڈیا کو عیسائی مشنریوں نے خرید رکھا ہے اور وہ ہندو مذہب اور سادھوﺅں کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہا ہے۔ ہم اس کی عبادت کرتے تھے اور اس کا حقیقی چہرہ سامنے آنے تک اس کیلئے سب کچھ کیا”۔
اسارام بھارت کے چند امیر اور بااثر ترین ہندو مذہبی رہنماﺅں میں سے ایک ہیں، ان کے بھارت بھر میں چار سو مراکز ، درجنوں اسکول اور شمالی بھارت میں لاکھوں ماننے والے موجود ہیں۔تاہم وہ ایک متنازعہ شخصیت بھی ہیں، جن کے خلاف مختلف عدالتوں میں درجنوں مقدمات زیرسماعت ہیں۔ اسارام کے سابق ساتھی ودراج امرت جنسی زیادتی کے تازہ مقدمے پر حیران نہیں۔
ودرات”ایسے مقدمات کی طویل قطار ہے، میں سب کچھ جانتا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتا ہے، اس کے آدمی اب تک چھ بار مجھے مارنے کی کوشش کرچکے ہیں” .
مگراسارام کو اب تک کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی اور وہ موجودہ الزامات کو بھی مسترد کرتے ہیں۔
اسارام”یہ گندے الزامات بے بنیاد ہیں، اسکے پیچھے سیاسی سازش ہے اور ایسا میرے ساتھ طویل عرصے سے ہورہا ہے، مگر میں ان سازش کرنے والوں کے نام سامنے نہیں لانا چاہتا”۔
مگر اپنی گرفتاری کے بعداسارام نے اس کا الزام کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے راہول گاندھی پر عائد کردیا، اپوزیشن جماعت بی جے پی کے کچھ رہنماءبھی اسی طرح کے الزامات لگارہے ہیں، اوما بھارتی بی جے پی کی سنیئر رہنماءہیں۔
شہری”کانگریس پارٹی کی دہلی اور راجھستان دونوں جگہ حکومت قائم ہے،اسارام باپو کھلے عام سونیا گاندھی اور راہول پر تنقید کرتے رہے ہین، اور جو سچ بولتا ہے اکثر انہیں سزا دی جاتی ہے”۔
ڈپٹی کمشنر پولیساجے لمبا کے خیال میں اسارام کے خلاف کیس کافی مضبوط ہے۔
اجے”ہم نے اسے اس وقت گرفتار کیا جب ہمیں یقین ہوگیا کہ الزامات درست ہیں، ہم نے تمام شواہد جمع کئے اور ان کی جانچ پڑتال کی جس سے بعد تمام الزامات درست ثابت ہوئے”۔
گرفتاری کی خبر ہزاروں افراد کو بھارت بھر میں سڑکوں پر لے آئی، کئی جگہوں پر مظاہرین نے اس مقدمے کی نمایاں کوریج پر صحافیوں پر تشدد بھی کیا، ہندو قوم پرست گروپس بھی اس واقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں،
وشوا ہندو پریشادسب سے بااثر ہندو انتہاپسند گروپ ہے، اس کے سربراہ اشوک سنگھل کا کہنا ہے کہ یہ تمام ہندوﺅں کیخلاف سازش ہے۔
اشوک”اب تک اسارام کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوسکے، ملک میں سادھوﺅں کو بدنام کرنے کیلئے ماحول بنایا جارہا ہے اور مذہب کے بارے میں اس طرح کے الزامات کے ذریعے شبہات پیدا کئے جارہے ہیں، حکومت اور کچھ لوگ ایسا کررہے ہیں”۔
مگر ایک اور ہندو رہنماءوشال آنند کا کہنا ہے کہ اب وقت ہے کہ مذہبی برادریوں کی باریک بینی سے چھان بین کی جائے۔
آنند”سادھو جیسے بدھا نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا، مگر اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ خودساختہ پرتعیش زندگیاں گزار رہے ہیں، انھوں نے اپنی ایمپائرز کھری کردی ہیں اور اس کے باوجود لوگ ان کو مانتے ہیں، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور ہمیں ان حالات کا گہرائی میں جاکر جائزہ لینا ہوگا”۔