معروف گلوکار و اداکار عنایت حسین بھٹی 12 جنوری 1928ءکو گجرات میں پیدا ہوئے تھے۔ 1948ءمیں وہ قانون پڑھنے کی غرض سے لاہور منتقل ہو گئے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ سٹیج پر ایک پرفارمنس کے بعد انھیں ریڈیو پر گانے کی پیش کش ہوئی۔ یہیں ان کی ملاقات موسیقار جی اے چشتی سے ہوئی جنھوں نے عنایت حسین کو اپنی فلم پھیرے میں گانے گانے کے لیے کہا، جس کا گیت او اکھیاں لاویں ناں(Oh Akhian laawin na) نے کافی مقبولیت حاصل کی۔
1953ءمیں انھوں نے فلم شہری بابو میں معاون کردار ادا کرکے اداکاری کا آغاز کیا، جبکہ اس فلم کا گیت بھاگاں والیوں نام جبھو مولا نام نام مولا نام نام نے انہیں بطور گلوکار معروف کردیا۔
1955ءمیں عنایت حسین بھٹی کو فلم ہیر میں ہیرو کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا اورگلوکاری کے ساتھ ساتھ ان کی اداکاری کو بھی خاصا سراہا گیا۔
اس کے بعد انھوں نے متعدد ہٹ گانے گائے اور انہیں پاکستان کے پہلے سپرسٹار پلے بیک گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔ چن میرے مکھناں، جند آکھاں کے جان سجناں(Jind akhan ke jaan)، دنیا مطلب دی او یار، دم عشق دا بھرنا پے گیا نی(Dum Ishq Da Bharna)، اور دلبر ملسی کہیڑے وار(DILBAR MILSI KEHRAY WAAR) وغیرہ اس کی چند مثالیں ہیں۔
ان کے بہت سے گانوں کو بعد میں پاکستان اور بھارت میں متعدد گلوکاروں نے گایا۔
مگر عنایت حسین بھٹی صرف پنجابی تک نہیں کئی سپرہٹ اردو گانوں کے بھی گلوکار ہیں، جیسے اے مرد مجاہد جاگ ذرا یا قدم بڑھاﺅ ساتھیوں وغیرہ انتہائی مقبول ہوئے۔
انہوں نے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کے اظہار کے لئے کئی فلمیں بنائیں،جن میںوارث شاہ، منہ زور،سجن پیارا،جند جان،چن مکھناں،دنیا مطلب دی اورظلم دا بدلہ نمایاں ہیں۔
1999ءکو پنجابی زبان کے اس مقبول ترین گلوکار کا آ ج ہی کے دن لاہور میں انتقال ہوا۔