In Thailand, Drama Therapy for Disabled Childrenتھائی لینڈ ڈرامہ تھراپی

تھائی لینڈ میں ذہنی طور پر معذور بچوں کے علاج کیلئے منفرد طریقہ اختیار کارکیا جارہا ہے، اس مقصد کیلئے تھیٹر پرفارمنس کے ذریعے بچوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

45 پینتا لیس سالہ نیکورن اور ان کی اہلیہ نے سات سال قبل اپنے آبائی قصبے سونگکلا کو چھوڑ کرچیانگ مائی میں رہائش اختیار کر لی۔ وہ یہاں اپنے اکلوتے بیٹے کے علاج کے لیے راجا ناگرندرا انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ڈیولپمنٹ میں آئے تھے۔

ان کے بیٹے پیدائشی طور پر چلنے اور بات کرنے میں مشکل کا سبب بننے والے مرض سیریبل پولسی کا شکار ہیں۔

سن”میں ہر ایک ہمدردی پر شکرگزار ہوں، جو ہمیں نظرانداز نہیں کررہے، بلکہ یہاں آکر ہمارے ہاتھوں کو تھام کر ہماری تنہائی کو شیئر کرتے ہیں”۔

ڈرامہ تھرپی کے ذریعے صورتحال میں تبدیلی آنے لگی ہے اور اب وہ اپنی وہیل چیئر خود چلانے، نئے دوست بنانے اور اسٹیج پر گانے بھی گانے لگا ہے۔

یہ کلاس ایک امریکی اداکارہ جین کالوٹ کی زیرقیادت چل رہی ہے، وہ گزشتہ تیس برس سے ڈرامہ تھراپی کی تربیت دے رہی ہیں۔

جین کالوٹ “یہاں ایک ایسا نوجوان ہے جو بول نہیں سکتا، ہم یہاں دو ماہ سے ہیں، وہ نوجوان بول نہیں سکتا، اس کا چہرہ بھی ہمیشہ سپاٹ رہتا تھا، مگر ایک ماہ بعد اس نے گانا شروع کردیا، اس کا دیکھ بھال کرنے والے اسے گاتا دیکھ کر خوشی سے رونے لگے، اس کے بعد اس نوجوان نے بولنا بھی شروع کردیا، ہماری ایک پرفارمنس کے دوران اس نے مائیکروفون اٹھاکر پرستاروں سے بات کرنا شروع کردی”۔

اس طریقہ علاج میں گلوکاری و اداکاری وغیرہ کے ذریعے مریض کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جاتا ہے، تاہم جین کا ماننا ہے کہ اس کے مزئد فوائد بھی ہیں۔

جین”یہ ان میں تخلیقی صلاحیت کو بڑھاتا ہے، جس سے اکثر یہ معذور افراد محروم ہوتے ہیں، ہر چیز پر ان کی توجہ بڑھتی ہے، یعنی وہ گلی میں چہل قدمی کرسکتے ہیں، کپڑے بدل اور کھانا کھاسکتے ہیں، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح اپنی جگہ کو صاف کرنا چاہئے، جب وہ تخلیقی ذہن کے حامل ہوتے ہیں تو انہیں نئے خیالات بھی آتے ہیں”۔

گزشتہ برس تھائی حکومت کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ چالیس ہزار بچے پیدائشی طور پر معذور ہوتے ہیں، 2007ءکے قومی سروے کے مطابق تیس فیصد سے زائد تھائی بچوں کو بولنے یا زبان سیکھنے میں مسائل کا سامنا ہے، ہسپتال کے ڈائریکٹر سامی سری تھونگتھاون کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ان کے ہسپتال میں ہروقت مریضوں کا ہجوم رہتا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ یہ ڈرامہ تھراپی اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

سامی سری تھونگتھاون”یہ تیکنیک ایسے بچوں کیلئے نئی ہے، اسے ایک مثال بناکر ملک بھر کے دیگر ہسپتالوں میں فروغ دیا جانا چاہئے”۔

جین کو یقین ہے کہ اس طریقہ علاج کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

جین”جب ہم نے گزشتہ سال اپنا کام شروع کیا، تو ہم مریضوں کو بولنے میں مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتے تھے، مگر وہ صرف سرگوشی کرتے تھے، ہم انہیں بلند آواز میں گانے پر تیار نہیں کرپاتے تھے، نہ ہی ان کے چہروں پر مسکراہٹ نظر آتی تھی، مگر چند ہفتوں کے بعد انھوں نے گانا شروع کردیا، بلند آواز میں بولنے لگے اور اپنے جذبات کا زیادہ اظہار کرنے لگے۔آپ ان پر جتنا کام کریں گے اتنا ہی ان میں بہتری نظر آئے گی”۔

حال میں ہسپتال نے ان معذور بچوں پر مبنی ایک تھیٹر ڈرامے کا انعقاد کیا۔

بیس سالہ اومسن ایک مریض ہے، مگر اس نے اب اسٹیج کو فتح کرلیا ہے۔

اومسن”میں مرکزی مرد کردار ادا کررہا ہوں اور میں گا بھی سکتا ہوں، ایسا گلوکار جو اب گا سکتا ہے، اور میں انگریزی بھی بول سکتا ہوں”۔