دہائیوں کی خانہ جنگی کے بعد افغانستان کا زرعی شعبہ اپنے پیروں پر پھر سے کھڑا ہونے لگا ہے، افغان حکومت نے اس حوالے سے حال ہی میں زرعی نمائش کا انعقاد بھی کیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
کابل کے بادام باغ میں سینکڑوں مقامی کاشتکار افغان زرعی نمائش کیلئے جمع ہوئے ہیں، یہ سب اپنی مصنوعات دکھانے کیلئے بے صبر ہیں۔ نائب صدر کریم خلیلی کا کہنا ہے کہ یہ ایونٹ افغان معیشت کی ترقی کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
کریم خلیلی”میں افغان زرعی مصنوعات اور نظام کو متعارف کرانے پر خوش ہوں، اس طرح کی نمائشیں ہماری ترقی کیلئے بہت اہم ہیں، ہر ملک میں مقامی کاشتکار پر ہی معیشت کا دارومدار ہوتا ہے”۔
مصنوعات جیسے پھول، پھل، لائیو اسٹاک، سبزیاں اور دیگر اس شو کا حصہ تھے، زرعی مصنوعات افغان معیشت کا 30 فیصد ہیں، حکومت کے مطابق رواں برس پھلوں کی مصنوعات میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے، وزیر زراعت محمد آصف رحیمی کا کہنا ہے کہ افغانستان اس شعبے میں خودانحصاری کے قریب ہے۔
آصف رحیمی”مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بزنس مین یہاں آئے ہیں، ہم مختلف افغان مصنوعات جیسے پھل، بادام، سبزیاں اور دیگر ان کے سامنے متعارف کرارہے ہیں، ہم اس خطے میں زیادہ زرعی مصنوعات برآمد کرنیوالا ملک بننا چاہتے ہیں”۔
افغانستان آڑو، انگور اور خربوزوں کی بہترین فصل کی بناءپر عالمی شہرت رکھتا ہے، محمد یونس صوبہ ننگرہار سے اس نمائش میں اپنے ساتھ شہد کی سینکڑوں بوتلیں لیکر آئے ہیں، انکا کہان ہے کہ یہ جگہ نئے مقامی اور بین الاقوامی صارفین کی تلاش کیلئے بہترین ہے۔
محمد یونس”حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے اپنے ساٹھ فیصد صارفین اسی طرح کی نمائشوں میں تلاش کئے، میں اس وقت اپنی مصنوعات کی فروخت سے بہت مطمئن ہوں”۔
خانہ جنگی کے دوران افغانستان اپنی زرعی ضروریات کا پچاس فیصد سے زائد حصہ درآمد کرتا تھا، اور اس طرح کی نمائشیں تو خواب سمجھی جاتی تھیں۔ مگر اب اس شعبے پر سنجیدگی سے توجہ دے رہی ہے۔ وزیر زراعت محمد آصف رحیمی اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔
آصف رحیمی”ہم اپنے زرعی شعبے کو روزانہ کی بنیاد پر بہتر کرنا چاہتے ہیں، یہ شعبہ بہتر ہوگا تو ہمیں آئندہ برس غیرملکی افواج کے انخلاءکے بعد معاشی بحران کے بارے میں فکرمند نہیں ہونا پڑے گا”۔
تاہم افغان چیمبر آف کامرس کے مطابق حکومت زرعی صنعت پر زیادہ توجہ نہیں دے رہی، محمد قور بادہقجوچیمبر آف کامرس کے سربراہ ہیں۔
قورباد”میرے خیال میں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ملک ابھی خانہ جنگی سے باہر نکلا ہے اور امن عمل کے نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے، یہ چیز دیگر شعبوں کے مقابلے میں زیادہ توجہ کی طالب ہے، مگر میرے خیال میں افغانستان ترقی کررہا ہے، ہم مختلف شعبوں جیسے زراعت کے انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس طرح کی نمائشیں بھی اسکا ہی ایک قدم ہیں”۔
سبزی فروش جیسے گل اندامنے اس نمائش سے اپنی مصنوعات بیرون ملک فروخت کرنے کے حوالے سے نئی چیزیں سیکھیں۔
گل “میں صوبہ پاراوان سے آئی ہوں، میں اپنے ساتھ مرچیں اور چند دیگر سبزیاں لائی ہوں، یہ نمائش ہمارے کاروبار کی ترقی کیلئے زبردست ہے، ہمیں یہاں اپنی مصنوعات کو پیک کرنے کے حوالے سے مختلف مشینوں کے استعمال سے واقفیت ہوئی، جس سے ہم اپنی سبزیاں تبدریج بیرون ملک فروخت کرنے کے قابل ہوسکیں گے”۔
محمد عارف فیرور پہلی دفعہ اس نمائش میں آئے ہیں، وہ اپنی ملی مصنوعات سے بہت متاثر نظر آتے ہیں۔
عارف “اس طرح کی نمائشوں سے ہمیں اپنی مصنوعات عالمی سطح پر برآمد کرنے کا موقع مل سکے گا، مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں ہم اہم برآمدی ملک کی حیثیت سے ابھرسکیں گے”۔