ICC Cricket World cup کرکٹ کا عالمی کپ

    دنیائے کھیل میں اولمپکس اور فٹبال ورلڈکپ کے بعد تیسرا سب سے بڑامقابلہ یعنی کرکٹ کا عالمی کپ بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں شروع ہوگیا ہے۔آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ،ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا سب سے اہم اور مقبول ترین مقابلہ ہے جس کا انعقاد ہر چار سال بعد ہوتا ہے اور اسے سب سے زیادہ دیکھا جانے والا مقابلہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کرکٹ کے پہلے عالمی کپ کا انعقاد 1975 میں انگلینڈ میں ہوا تھا جس میں کل آٹھ ٹیمیں شریک تھیں،جبکہ کرکٹ ورلڈ کپ 2011 کرکٹ کی تاریخ کا دسواں ورلڈ کپ ہے جس میں ریکارڈ 14 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ عالمی کپ 19 فروری 2011ءسے 2 اپریل تک، یعنی کل 43 دن جاری رہے گا اور اس دوران کل 49 میچ کھیلے جائینگے۔اب تک کھیلے گئے ورلڈکپ میں چار بار آسٹریلیا، دو بار ویسٹ انڈیزاور ایک ایک بار پاکستان، بھارت اور سری لنکا فتح یاب رہنے میں کامیاب ہوئے۔
کرکٹ ورلڈکپ کی آمد کیساتھ پاکستان میں بھی کرکٹ کے شائقین میں کرکٹ کا بخار تیزی سے بڑھ رہا ہے، خصوصاً نیوزی لینڈ کیخلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں کامیابی کے بعد شائقین کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ ورلڈکپ روانگی سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی اورکوچ وقار یونس نے پریس کانفرنس بھی کی جس میںکپتان شاہد آفریدی نے ٹیم کے بلندعزائم کا اظہار کیا۔
مگرسابق کرکٹرز نے پاکستانی بولنگ کی قیادت کرنیوالے شعیب اختر کو ادھوری فٹنس کے باوجود ٹیم میں شامل کئے جانے پر سوالات اٹھائے ۔ کوچ وقار یونس، آل راﺅنڈر سہیل تنویر کی ٹیم میں شامل نہ کئے جانے کی وجہ بتا رہے ہیںجبکہ شعیب اخترکے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ادھوری فٹنس کے باوجود دوسروں سے بہتر ہےں۔
تاہم 1992ءکا کرکٹ ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان عمران خان موجودہ ٹیم کے بارے میں زیادہ توقعات نہیں رکھتے۔ انکے مطابق سری لنکا اور بھارت فیورٹ ٹیمیں ہیں،مگر شاہد آفریدی کی زیرقیادت ٹیم متحد رہی تو ورلڈکپ پاکستان بھی جیت سکتا ہے۔اسی طرح ایشین بریڈ مین ظہیر عباس کے مطابق بھارت، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں اس بار سیمی فائنل میں پہنچ جا ئیں گی۔ ظہیر کے خیال میں پاکستان کی ٹیم نے اگر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تو وہ اس ٹیم کا کارنامہ ہو گا۔
اسکے برعکس سب سے زیادہ چھ ورلڈ کپ کھیلنے والے جاوید میانداد کی رائے ظہیر عباس سے کافی مختلف ہے،انکا کہنا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی کوئی فیورٹ ٹیم ورلڈ کپ نہیں جیتی، ون ڈے میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔مگر سابق عظیم لیگ اسپنر عبدالقادر کے خیال میں ورلڈکپ کسی ایشیائی ٹیم کے نام رہے گا۔
پاکستان کی ٹیم بولنگ اور بیٹنگ کے شعبوں میں تو کافی متوازن نظر آتی ہے، مگر فیلڈنگ کے شعبے میں اسکا ریکارڈ ہمیشہ خراب رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میںکوچ وقار یونس نے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈکپ میں ٹیم کا انحصار فیلڈنگ پر ہوگا ۔
سابق لیفٹ آرم اسپنر اور چیف سلیکٹر رہنے والے اقبال قاسم کی بھی ٹیم کے بولنگ اسکواڈ سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔
ورلڈکپ کے آغاز سے قبل ایونٹ میں شریک ٹیموں کے درمیان تینوں میزبان ممالک میں دو،دووارم اپ میچ کھیلے گئے، جس میں بھارت نے اپنے دونوں میچوں میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو باآسانی شکست دی۔جنوبی افریقہ نے بھی ورلڈ چیمپئن آسٹریلیا کیساتھ ساتھ زمبابوے کوشکست دی۔ نیدر لینڈ کو سری لنکا کے ہاتھوں شکست ہوئی، جبکہ کینیا کیخلاف وہ فتح یاب رہی۔اسی طرح آئرلینڈنے نیوزی لینڈ سے شکست کھائی، تاہم آئرش ٹیم زمبابوے کو ہرانے میں کامیاب رہی۔ سری لنکا نے نیدر لینڈ اور ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ جیت کراپنے خطرناک عزائم کا اظہار کیا، تاہم ویسٹ انڈیز کینیاکیخلاف میچ جیت گئی،جبکہ انگلینڈ کی ٹیم کینیڈااور پاکستان کو ہرانے میں کامیاب ہوئی، جبکہ پاکستان نے بنگلہ دیش کو شکست دی۔معروف سابق کرکٹر عبدالقادر پاکستانی ٹیم کو بہت اچھی ٹیم مانتے ہیں مگر سلیکشن کے حوالے سے ان کو تحفظات لاحق ہیں۔
عالمی مقابلے کے 49 میچوں میں سے 29 بھارت میں ہونگے، سری لنکامیں 12 جبکہ بنگلہ دیش میں 8 میچ کھیلے جائیں گے۔ ان تین ممالک کے مختلف شہروں میں واقع کل 13 اسٹیڈیم ان میچوں کی میزبانی کرینگے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش پہلی بار کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے۔ورلڈکپ میں شامل چودہ ٹیموں کو دوگروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں پاکستان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سری لنکا،زمبانوے،کینیڈا اور کینیا شامل ہیں جبکہ گروپ بی بھارت، جنوبی افریقہ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش، آئرلینڈ اور نیدرلینڈ کی ٹیموں پر مشتمل ہے۔گروپ مرحلے کے دوران ہر گروپ سے چار سرفہرست ٹیمیں ناک آﺅٹ مرحلے یعنی کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گی،جو 23سے26مارچ تک کھیلے جائیں گے جسکے بعد 29 اور30مارچ کو سیمی فائنلز اور دو اپریل کو فائنل کھیلا جائیگا۔ فاتح ٹیم کو آئی سی سی کی جانب سے ورلڈ کپ ٹرافی کے علاوہ 30 لاکھ امریکی ڈالر کا نقد انعام دیا جائے گا جبکہ رنر اپ ٹیم کو 15 لاکھ امریکی ڈالر انعام میں دیے جائینگے۔اگرچہ ورلڈ کپ میں کوئی بھی کسی ٹیم کی کامیابی کی ضمانت دینے پر تیار نہیں مگر برصغیر کے تیرہ شہروں میں اگلے 43 دن مستقبل کے چمپئن کا فیصلہ کرنے کےلئے کافی ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *