مشرقی انڈونیشیاءکے مختلف علاقوں میں چار یا پانچ سال کی عمر کے بچے پیشہ ور چائلڈ جوکیزیا گھڑ سوار کی حیثیت کام کرنے لگتے ہیں، سامباکے جزیرے کی وجہ شہرت ہی یہاں کے گھوڑے اور دوڑ کے مقابلے ہیں۔رواں برس بھی یہاں ایک گھڑ ریس ہوئی جس میں گیارہ سال سے کم عمر سینکڑوں بچوں نے شرکت کی، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سامبامیں ایک خوشگوار دن کا آغاز ہوگیا ہے، ہم لوگ اس وقت ایڈے کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ ایک پیشہ ور چائلڈ جوکی ہے، اس نے ایک چھوٹا سا ہیلمٹ پہن رکھا ہے مگر پیر جوتوں سے محروم ہیں۔ وہ چار سال کی عمر سے یہ کام کررہا ہے۔
ایڈے کے پاس اپنا گھوڑا نہیں، اسی لئے وہ امید کررہا ہے کہ کوئی اسے اپنے جوکی کی حیثیت سے بھرتی کرلے گا۔
ایک شخص آکرایڈے کا انٹرویو کررہا ہے اور پھر اس کا بازو تھام کر کہنے لگا کہ میں اسے رکھ رہا ہوں، میں اسے رکھ رہا ہوں۔
سوال” آپ نے اسے کیوں منتخب کیا؟
شخص”میں نے ایڈےکو اس لئے چنا کہ یہ چھوٹا ہے، میں ایک چھوٹے جوکی کی تلاش میں تھا، یہی وجہ ہے کہ میں اسے اپنے ساتھ لے جارہا ہوں”۔
ریس میں شریک گھوڑے بھی چھوٹے ہیں، یعنی ان کی لمبائی ڈیڑھ میٹر سے زائد نہیں، مگر اس کے باوجود ایڈے اپنے والد کی مدد کے بغیر ان پر چڑھ بھی نہیں پاتا۔
باپ”میرا بیٹا چار سال کی عمر سے پیشہ ور جوکی کے طور پر کام کررہا ہے، ہم نے اسے ساڑھے تین سال کی عمر میں تربیت دینا شروع کی تھی، اور اب وہ سات سال کا ہوچکا ہے اور بہت اچھا گھڑسوار ہے”۔
اور ریس کا آغاز ہوگیا، اور ہر سوار اپنے گھوڑے کو اختتامی لائن کی جانب دوڑانے لگا۔
سوال”آپ کو کتنی آمدنی کی توقع ہے؟
باپ”پچاس ہزار”۔
ہر ریس کے لیے ایڈے کو پانچ امریکی ڈالر ملتے ہیں، اور وہ اب تک تین چکر لگا چکا ہے۔
ایڈے”میں اب تھک چکا ہوں”۔
اس کے والد نے اسے اٹھا لیا کیونکہ وہ بہت زیادہ تھک چکا تھا۔
باپ”اگر یہ مضبوط ہوا تو یہ کام جاری رکھے گا، یہ دس مختلف گھوڑوں پر سواری کرکے مختلف ریسز میں شریک ہوگا، اگر اس میں توانائی ہوئی تو یہ کام جاری رکھتا، مگر یہ اب تھک چکا ہے اور کچھ دیر آرام کرے گا”۔
ایڈے اور اس کا نو سالہ بھائی اینیڈ بھی جوکی ہے، اور یہ دونوں ہی اپنے خاندان کی کفالت کررہے ہیں۔ان دونوں کی ماں کا اس بارے میں یہ کہنا ہے۔
ماں”ہم اس مقابلے کے سات روز کے دوران ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کماکر گھر لے جاتے ہیں”۔
یہ بچے ایک ہفتے تک یہ کام کرے ایک ہزار ڈالرز کمالیتے ہیں، حالانکہ انڈونیشیاءمیں اوسطاً ہفتہ وار تنخواہ صرف پچاس ڈالرز ہے۔
ماں”اگر یہ مقابلے اسکول جانے کے دوران ہو، تو ہم اساتذہ سے اجازت مانگتے ہیں، کیونکہ میرے بچوں کے باس انہیں ریس میں دیکھنا چاہتے ہیں”۔
سوال”کیا کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا؟
ماں”میرے بچے اپنے کام کو سمجھتے ہیں، جب اساتذہ پوچھتے ہیں کہ آخر تم لوگ کیوں گھوڑوں کی دوڑ کیلئے اپنی کلاسز چھوڑتے ہو تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری ماں کا خیال کون رکھے گا اور ہمارے چھوٹے بہن بھائی کو کون کھلائے گا؟”
انڈونیشیاءمیں پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو کام کرانے کی اجازت نہیں، مگر ایونٹ کے منتظم امبا ٹامباکا کہنا ہے کہ ان ریسوں میں قوانین پر عمل کیا جاتا ہے۔
امبا ٹامبا”یہ ایک روایت ہے جو ہمارے آباءو اجداد سے چلی جارہی ہے، ہم کوئی قانون نہیں توڑ رہے”۔
سوال”آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ قوانین کی خلاف ورزی نہیں؟
امبا ٹامبا”کیونکہ یہ ہماری روایات کا حصہ ہے، روایتی قوانین کو ریاستی قوانین کا درجہ حاصل ہوتا ہے، جب میں بچہ تھا تو خود جوکی کا کام کرتا تھا اور میں کئی بار گھوڑوں سے گرا بھی، مگر میں ٹھیک ٹھاک ہوں، میں کبھی زخمی بھی نہیں ہوا”۔
سوال”کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو اس کام کیلئے کام مجبور کیا جاتا ہے اور کسی کو بچوں سے ایسا سلوک کرنے کا حق نہیں؟
امبا ٹامبا”جو بھی ایسا کہتے ہیں وہ اشتعال پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کسی بچے کو جوکی بننے پر مجبور نہیں کیا جاتا، یہ بات ٹھیک ہے کہ ملکی قوانین کے تحت کم عمر بچوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں، مگر یہ تو ہمارا ثقافتی ورثہ ہے، اور وہ یہ کام مفت نہیں کرتے۔ اگرچہ کوئی باضابطہ قیمت تو طے نہیں مگر ان بچوں کو اچھا معاوضہ دیا جاتا ہے اور ہم ان کے کام کا احترام بھی کرتے ہیں”۔
دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا ہے اور پورا خاندان گھاس پر بیٹھا ہوا ہے۔
ایڈے کے انکل اسے گھڑ سواری کی مختلف تیکنیکی پہلو بتارہے ہیں، مگر وہ سن ہی نہیں رہا،بلکہ وہ سوچ رہا ہے کہ وہ یہاں موجود لڑکوں سے کتنی ریسیں جیت چکا ہے۔
ایڈے”میں اب تک تین بار جیت چکا ہوں، اور دو بار دوسرے نمبر پر رہا، ہاں میں دو بار نہیں تین بار جیتا ہوں”۔
ایڈے کی والدہ کھانا پکانے اور لگانے میں مصروف ہے، ایڈے سب سے پہلے کھاتا ہے، جبکہ اس کی ماں اور باپ جو بچتا ہے اسی پر خوش رہتے ہیں۔
ماں”میں مویشی خرید رہی ہوں اور اس کیلئے ایک گھر بنارہی ہوں، مجھے فکر ہے کہ جب وہ بڑا ہوجائے گا تو پوچھے گا کہ میری کمائی گئی رقم کہاں ہے؟ یہی وجہ ہے کہ میں مویشی خریدنے اور گھر بنانے میں مصروف ہوں، اگر وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہے تو اس کیلئے رقم جمع کررہی ہوں”۔
ایڈے جب پندرہ سال کا ہوجائے گا تو اسے کوئی کام کرنا پڑے گا اور اس کے پاس کئی منصوبے بھی ہیں۔
یڈے”میں ایک فوجی افسر بننا چاہتا ہوں، میں گن چلانا چاہتا ہوں، Pow…Pow…pow “۔
کھانے کے وقفے کے بعد ریس دوبارہ شروع ہورہی ہے، ایڈے اب ایک نئے گھوڑے پر سوار ہے اور وہ بجلی کی طرح اسے فیلڈ پر دوڑا رہا ہے۔
گھوڑے نے اچانک بدک کرایڈے کو نیچے پھینک دیا، اس کی ماں فوراً دوڑ کر وہاں پہنچی،لگتا تھا کہ بچے کی ٹانگ زخمی ہوگئی ہے۔ میں نے خاتون سے پوچھا کہ کیا وہ اسے ہسپتال لے جائیں گی؟
ماں”نہیں ہم اسے کبھی ہسپتال لیکر نہیں جاتے، اگر اس کی ٹانگ بھی ٹوٹ جاتی تو ہم اسے روایتی ادویات دیتے، ہسپتال میں ٹانگ کا صحیح علاج نہیں ہوپاتا بلکہ وہ تو اسے کاٹ دیتے ہیں۔ہسپتال کے عملے کے پاس یہی علاج ہے مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں”۔
ایڈے خود ہی کھڑا ہوگیا، اب وہ چل رہا تھا، ہم نے اسے ریس سے ڈر نہیں لگتا۔
باپ”ہم اسکے عادی ہوچکے ہیں، یہ ہماری روایت، اور زندگی کا حصہ ہے، تو ہمیں ڈر یا فکر کا کبھی احساس نہیں ہوتا”۔
سوال”کیا وہ کئی بار گر چکا ہے؟
باپ”جی ہاں اور کئی بار تو اس کی ہڈیاں اور ٹانگ بھی ٹوٹ چکی ہے”۔
سوال”کیا واقعی ایڈے کی ٹانگ ٹوٹ چکی ہے؟
باپ”جی ہاں ایسا ہوچکا ہے اور میرے بڑے بیٹے اینیڈ کی تو ایک بار دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں، مگر وہ ڈرا نہیں، وہ جتنا درد برداشت کرتا تھا اس کی ہمت اتنی ہی بڑھتی چلی جاتی تھی”۔
تاہم مقامی حکومت ان بچوں کے تحفط کیلئے کوشاں ہے، گیڈیون بلیجوڑا،ایسٹ سومبا میںریجنسی ہیڈ ہیں۔
گیڈیون”میں نے منتظمین سے کہا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ پر زیادہ توجہ دیں اور میں نے ان سے یہ بھی کہا ہے کہ جوکیوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے”۔
سوال”مگر انڈونیشین قوانین کے مطابق پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی ملازمت قانون کے خلاف ہے، جبکہ یہاں چار سے پانچ سال کی عمر کے بچے یہ کام کررہے ہیں”۔
گیڈیون”جی ہاں یہاں چار سے پانچ سال کی عمر کے جوکی موجود ہیں اور یہ قانون کے خلاف ہیں، مگر ہم اسے مقامی روایات کا حصہ مانتے ہیں، حکومت اسے ثقافتی شناخت اور روایات کی نظر سے دیکھتی ہے”۔
سوال”ہم کئی بچوں سے ملے جو گھوڑے سے گر کر بری طرح زخمی ہوگئے، اگر مرکزی حکومت اس روایت کے خاتمے پر زور دے تو پھر آپ کیا کریں گے؟
گیڈیون”اگر اسے غیرقانونی قرار دیا گیا تو ہمارے لئے کافی مشکل ہوجائے گی، ہمیں اپنی برادری کے مظاہرے روکنے کیلئے کام کرنا پڑے گا، کیونکہ گھڑ سواری ہی مقامی معیشت میں روزگار کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ کاشتکاروں کی آمدنی بھی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب یہ ریسیں ہورہی ہوتی ہیں”۔
اب ریس کی جانب واپس آتے ہیں، ایک اور گھوڑے کا مالک ایڈے کو سواری کیلئے تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے، مگر یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے منع کردیا۔
ایڈے”میںبہت کام کرچکا ہوں”۔
ریس کا دن اختتام کے قریب ہے، ایڈے خالی میدان میں بھاگ کر جھینگر پکڑنے کی کوشش کررہا ہے۔